ہر ج ن کے مادہ میں پوشیدگی ہے

مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 1

المجنون ھو من لم یستقم کلامہ و افعالہ

مجنوں یعنی پاگل وہ جس کا کلام اور اس کے کام درست نہ ہوتے ہوں
(کتاب التعریفات لجرجانی)
اس لحاظ سے ہر انسان میں کچھ نہ جنون ہوتا ہے
کبھی افعال درست نہیں کبھی کلام میں غلطی ہوتی ہے
جبکہ شرعی مجنون امام اعظم کے نزدیک وہ جس پر پورا ایک ماہ یہ حالت طاری ہو
امام ابو یوسف کے نزدیک جس پر یہ حالت دن کا اکثر حصہ ہو
اور امام محمد کے نزدیک مجنون وہ جس پر یہ حالت ایک پورا سال طاری ہو
جنون کا معنی ہے ڈھانپ لینا کیونکہ یہ کیفیت عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اسی لیئے اسے جنون کہتے ہیں

اھلِ لغت کہتے ہیں ہر کلمہ جس کا مادہ جن ہو اس میں چھپانے اور ڈھانپنے کا معنی آتا ہے
مثلا جن کو جن اس لیئے کہتے ہیں یہ پوشیدہ ہوتا ہے
جنت کو جنت اس لیئے کہتے ہیں کثرت اشجار اس کو ڈھانپے ہوئے ہیں
پیٹ کے بچے کو جنین اس لیے کہتے ہیں وہ پیٹ میں پوشیدہ ہوتا ہے
دل کو جنان اس لیئے کہتے ہیں وہ سینے میں پوشیدہ ہوتا ہے
اھلِ اردو عشق کو جنوں بھی کہتے ہیں
حسان الھند کہتے ہیں
پاؤں غِربال ہوئے راہِ مدینہ نہ ملی
اے جنوں ! اب تو مِلے رُخصت زِنداں ہم کو

چاکِ داماں میں نہ تھک جائیو اے دستِ جنوں
پُرزے کرنا ہے ابھی جیب و گریباں ہم کو

کیونکہ عشق عقل کو ڈھانپ لیتا ہے اسی وجہ سے اسے جنوں کہتے ہیں
جس کی آنکھوں کو عشقِ حقیقی ڈھانپ لے تو پھر وہ انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو عام لوگ نہیں دیکھ پاتے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top