مرد و عورت پر مشکل

اسلامی_طرزِ_تربیت 251

ایک عربی خاتون نے نکتے کی بات لکھی
الرجل يحب أن يَرى و المرأة تحب أن تُرى
مرد چاہتا ہے کہ وہ دیکھے
عورت چاہتی ہے کہ وہ دیکھی جائے
اسی وجہ سے مرد کے لیئے نظریں جھکانا مشکل ہے اور عورت کے لیئے بننا سنورنا اور پردہ کرنا مشکل ہے
جنت ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دی گئی ہے اور جہنم خواہشات سے آراستہ ہے
یہ دنیا دار الامتحان ہے اس میں ہاتھ پاؤں میں طاقت
آنکھ کان میں قوت
ا بدن میں ہمت
دل میں حوصلہ
دماغ میں عقل
دے دی گئی اور سامنے حلال و حرام رکھ دیا گیا جو اختیار میں ہونے کے باوجود حرام سے رک جائے گا دائمی جنت پائے گا اور جو حرام کرے گا وہ بھگتے گا
جو عورت پردہ نہیں کرتی وہ یہی چاہتی ہے کہ اسے دیکھا جائے اور جب مرد گھورتا ہے تو پارسا بن جاتی ہے
اور شیطان کی بیٹیوں کی طرح کہتی ہے مرد کی نگاہ میں ہوس ہے
جب تم کہتے ہو پردہ دل میں ہونا چاہیے تو آنکھوں سے دیکھنے پر تمہیں تکلیف کیوں ہوتی ہے ؟

یاد رکھیں
آپ کے جسم کا جو حصہ کھلا ہے وہ دیکھنے دکھانے کے لیئے ہی ہے
یہ آدھی مسلمان آدھی شیطان عورتیں نہایت خطرناک ہوتی ہیں
جب ان پر عقلی لحاظ سے پردہ ثابت کیا جائے تو اچھل کر مسلمان بن جاتی ہیں
ورنہ اسلامی احکام پر دبے لفظوں میں اعتراض کرتی ہیں
جسم کا جو حصہ کھلا ہے یا واضح ہے مرد وہ دیکھے گا یہ اس کی فطرت ہے اور تم نے اسے کھلا یا واضح رکھا ہی اسی وجہ سے ہے کہ اپنا آپ دکھاؤ
پھر کوئی اپنی آنکھوں سے اپنی مرضی سے دیکھے اور اپنی زبان سے بکے تو پارسا بننے کا ڈھونگ کیوں کرتی ہو ؟
منافق ہمیشہ اھلِ اسلام کے لیئے کافر سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اسلام کے اصول و قواعد کو کچھ نہ کچھ جانتا ہے تو اپنی مرضی کے اصول سے نفسانی خواہشات جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے
جو مسلمان خواتین پردہ نہیں کرتیں وہ بے پردگی پر دلیلیں دینے کی بجائے یوں کہ دیں کہ ہم پردے کی اہمیت و فرضیت کو مانتی ہیں مگر نفس کے ہاتھوں اور معاشرے کی وجہ سے اس گناہ میں مبتلاء ہیں تو یہ کہنا نجات دلا دے گا
کیونکہ گناہ معاف ہیں بغاوت معاف نہیں ہے
الله رب العزت کو سرکش منکر پسند نہیں گناہ گار مومن پسند ہے
لہذا اسلام کے کسی حکم کے منکر نہ ہوں
اس کے مرتکب ہو جائیں تو معافی مل جائے منکر ہوں گے تو کبھی معافی نہیں ملے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top