نماز میں الله اکبر ہی کیوں کہا جاتا ہے

تصوف_و_صوفیاء 89

شیخ محی الدین ابن العربی نماز کے شروع میں اور رکوع و سجود کے وقت الله اکبر کہنے کی حکمت بیان فرماتے ہیں
اس وقت سبحان الله یا الحمد لله نہیں کہا جاتا
الله اکبر کہا جاتا ہے
جب بندہ مومن الله اکبر کہتا ہے تو اپنے دل سے الله کے سوا ہر ایک کی نفی کر دیتا ہے
گویا وہ کہتا ہے
اے الله تو میرے رنج و غم خوف و گناہ سے بڑا ہے
میری عقل و میرے وجود سے بڑا ہے
جب بندہ اُس کی بڑائی بیان کرتا ہے تو بندے کے سامنے ہر شے چھوٹی ہو جاتی ہے اور جب ہر شے چھوٹی ہو جائے تو بندہ خاص رحمتِ الٰہی میں داخل ہو جاتا ہے
اسمِ جلالت الله کا الف احدیت کی طرف اشارہ کرتا ہے تو جب بندہ الف کہتا ہے تو گواہی دیتا ہے کہ اس کا ثانی نہیں ہے
تو بندے کو چاہیے کہ اپنی ہمت الف کی طرح بنائے اور دو کی طرح نہ دیکھے
اسمِ جلالت الله کا پہلا لام ملک کا ہے
بندہ کہتا ہے سارا ملک اسی کا ہے اور سب کچھ اسی کے حوالے ہے
اسمِ جلالت کا دوسرا لام اختصاص کا ہے گویا بندہ کہتا ہے بندہ اپنے مالک کے ساتھ مختص ہے اور مالک بندے کے ساتھ خاص ہے تو اس کے سوا کسی سے انسیت و راحت طلب نہیں کرتا
اسمِ جلالت کی ھاء ھویة کی ہے
جب اس پر بندہ وقف کرے تو خود کو فناء کر دے کیونکہ یہ ھاء غیب کی ہے جس کا ادراک ممکن نہیں تو بندہ اس میں خود کو فناء کر دے اور جب خود کو فناء کرے تو صحیح معنوں میں تکبیر کہنے والا ہوگا
اکبر کا کاف کفایہ سے ہے وہ بندے کو ہر شے کے لیئے کافی ہوتا ہے
باء بر کی ہے یعنی بھلائی وہ تم سے بھلائی کرتا ہے تم اس کی عبادت کرو یا نہ کرو
راء رحمت کی ہے کہ وہ تم پر رحمت فرماتا ہے اگرچہ تم اس کی نافرمانی کرو
رکوع و سجود میں الله اکبر کے تکرار کی حکمت یہ ہے کہ بندہ ہر حرکت و سکون ہر بلندی و پستی میں اسے یاد کرے
❗ الفتوحات المکیہ باب سر الصلوۃ ❗
جو اس معنی کو سمجھے اور اس کو مد نظر رکھ کے نماز پڑھے تو کشف کے دروازے کھل جائیں گے
وہ مقام کی بلندیاں پائے گا
نماز معراج ہے یہ درجات و مقامات کی سیڑھی ہے
جو اس کی روح کے ساتھ پڑھے گا بلندی پائے گا
نماز کی روح تعدیلِ ارکان یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور غور و فکر کے ساتھ پڑھنا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top