حوادثِ_اخرِی_الزماں 13
شام میں شام ہے
فتنوں کے دور میں عالم وہ نہیں جو فتنہ تباہی مچائے تب اس کی پہچان کرے بلکہ عالم وہ ہے جو فتنہ آرہا ہو تو پہچان لے کہ یہ فتنہ ہے
جیسا کہ امام حسن بصری کا فرمان ہے
إن هذه الفتنة إذا أقبلت عرفها كل عالم وإذا أدبرت عرفها كل جاهل
جب فتنہ آرہا ہوتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے اور جب فتنہ تباہی مچا کے جا رہا ہوتا ہے جاہل تب پہچانتا ہے
❗کتاب الفتن لنعیم ❗
سیدی عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں
إن الفتنة إذا أقبلت شبهت وإذا أدبرت أسفرت
جب فتنہ آتا ہے تو اس کا معاملہ مشتبہ [پوشیدہ] ہوتا ہے اور جب تباہی مچا کے جا رہا ہوتا ہے تو واضح ہوتا ہے
❗کتاب الفتن لنعیم ❗
عالم کی شان فتنوں کی پہچان ہے
یعنی مزاجِ شریعت جاننے والے عالم کی نگاہ سات پردوں کے پار دیکھ لیتی ہے
مگر آخری دور کے فتنے اتنے کثیر و اتنے شدید ہوں گے کہ علماءِ اسلام پر بھی معاملہ پوشیدہ ہو جاتا ہے
جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں آیا
ثم فتنة لا تدع بيتا من العرب إلا دخلته
پھر ایسا فتنہ ائے گا کہ عرب کے ہر گھر میں داخل ہوجائے گا
مسند احمد کی روایت میں ہے ہر مسلمان کے گھر میں فتنہ داخل ہو جائے گا
اس میں عالم و غیرِ عالم کا فرق نہیں ہے
اس کی وجہ یہی ہوگی کہ فتنے اتنے کثیر و شدید ہوں گے کہ علماء پر بھی مشتبہ ہو جائیں گے
الا ماشاء اللہ
مگر جسے الله محفوظ رکھے وہ بچے گا اور بچائے گا
سر زمین انبیاء کرام و ابدالوں کے وطن ملکِ شام میں غارت گری آیا فتنہ ہے یا اسلام کے لیئے بھلائی ہے
یہ سوال تقریباً سب اھلِ سنت کے دِلوں کو بے چین کیئے ہوئے ہے
تو اس کا جواب ہم حدیث پاک سے لے لیتے ہیں
جناب صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تُفْتَحُ الشّامُ، فَيَخْرُجُ مِنَ المَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، والْمَدِينَةُ خَيْرٌ لهمْ لو كانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ اليَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنَ المَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، والْمَدِينَةُ خَيْرٌ لهمْ لو كانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ العِراقُ، فَيَخْرُجُ مِنَ المَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، والْمَدِينَةُ خَيْرٌ لهمْ لو كانُوا يَعْلَمُونَ
شام فتح ہوگا تو مدینے سے لوگ اپنے اھل و عیال کو لے کر اس کی طرف دوڑیں گے جبکہ مدینہ ان کے لیئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے پھر یمن فتح ہوگا تو مدینہ سے لوگ اپنے اھل و عیال لے کر اسکی طرف جلدی جائیں گے جبکہ ان کے لیئے مدینہ بہتر ہوگا اگر وہ جانتے پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے اھل و عیال لے کر جائیں گے جبکہ مدینہ ان کے لیئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے
❗بخاری شریف ❗
یہ روایت قربِ قیامت کے متعلق ہے
کیونکہ اس میں یمن کے فتح ہونے کا ذکر ہے جبکہ یمن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں مسلمانوں کے پاس آ چکا تھا
اب ذرا موجودہ صورتِ حال کی طرف آئیں
اولا تو شام پر قبضہ کرنے والے گروپ کا سربراہ خارجی داعشی ہے
داعش نے بلا مبالغہ ہزاروں سنی مسلمانوں کو شہید کیا ہزاروں کو بے گھر کیا ذبح کیا ابن عبد الوھاب نجدی کی سوچ کے تحت شرک کے فتوے لگا کر اور حدیث پاک کے مطابق جو خارجیوں کی نشانیاں آئی ہیں کہ یقتلون اھل الاسلام و یدعون اھل الاصنام یعنی مسلمانوں کو قتل کریں گے اور کفار کو چھوڑ دیں گے
لہذا ان سے خیر کی توقع نہیں ہے
نہ قابض خیر خواہ ہیں نہ مقبوض بھلے تھے
آپ اس کو یوں بھی سمجھیں کہ نجدی فکر میں بنو اُمیہ کو امت کے مقتداء بنا کر پیش کیا جاتا ہے
آپ دیکھ رہے ہیں وہ نعرے لگا رہے ہیں بنو امیہ لوٹ ائے جبکہ اھلِ سنت کبھی اس نام کو خود سے منسوب نہیں کرتے
سیدنا عثمان غنی امیر معاویہ و عمر بن عبد العزیز کے سوا سب ظالم و جابر تھے
تو مطلقاً بنو امیہ کی مدحت نجدیہ کا طریق ہے
یہ بنو عباس کو ظالم اور بنو عثمان یعنی سلطنت عثمانیہ کو غاصب کہتے ہیں اور خود کو بنو امیہ کے وارث کہتے ہیں
دوسری بات
حدیث شریف میں ہے شام فتح ہوگا پھر یمن فتح ہوگا پھر عراق فتح ہوگا
یہ منظر نامہ بڑا دلچسپ ہے
شام روافض کے پاس
یمن حوثی روافض کے پاس
عراق روافض کے پاس
ہوگا تو یونہی کہ سنی اٹھیں گے اور ان سے چھین کر یہ ملک فتح کریں گے کفار یعنی یہود و نصاری کا قبضہ ہوتا نظر نہیں آتا ان ممالک پر کہ پچاس اور اسلامی ملک ہیں سب کود پڑیں گے
ایسا نہیں ہوگا
وہ جو ان ممالک کی فتح ہے وہ روافض سے یہ ممالک لینا ہے
اب اگر شام کی موجودہ فتح کو حدیث کے مطابق رکھیں تو اگلی باری یمن کی ہے پھر عراق کی ہے
اگر تو اسی گروہ نے یمن فتح کیا پھر عراق فتح کیا تو یہی گروہ امام مہدی کے سپاہی ہوں گے
مگر مجھے یقین ہے ایسا نہیں ہوگا
کیونکہ
اولاً امام مہدی کے ساتھی خارجی نہیں ہوں گے
دوم نجدیہ و رافضیہ نے آج تک کسی ملک کو فتح نہیں کیا انہوں نے بس خیانت و غداری سے مسلمانوں کے ممالک میں خانہ جنگی کروا کے قبضہ کیا ہے
مصر میں باطنیوں کی حکومت یونہی آئی
عراق میں روافض نے یونہی قبضہ کیا
شام میں یہی ہوا
عرب میں نجدیوں نے سلطنت عثمانیہ کو یونہی ہٹایا ہے
ہاں یہ ضرور ہے کہ امام مہدی کی آمد سے قبل شام میں خلافت قائم ہو چکی ہوگی
اب عرب کے سنی کب بیدار ہو کر خلافت قائم کرتے ہیں نہیں معلوم
عین ممکن ہے غزہ میں شریک مجاہد یہ کارنامہ سر انجام دیں کہ کسی کو خیال اجائے کہ شام میں خلافت قائم کرو تو ایسا بھی ممکن ہے
والله اعلم
✍️ #سیدمہتاب_عالم
