حوادثِ_اخرِی_الزماں 14
پچھلے دنوں حرم مدینہ کی حدود میں مشرکہ وزیر اور اس کے عملے کو سعودی حکومت نے نہ صرف داخل کیا بلکہ پروٹوکول سے نوازا
ایسا کیوں کیا گیا ؟
ذرا اس کو تاریخی لحاظ سے یوں سمجھیں
الملل و النحل میں شہرستانی نے ایک عجیب بات بیان کی ہے
جو شکوک و شبھات امت کے آخری زمانے میں واقع ہوتے ہیں وہ بالکل وہی شکوک وشبہات ہیں جو اس امت کے شروع میں پیدا کیئے گئے تھے
صفحہ 28
پھر آگے صفحہ 550 پھر جا کے ایسی بات کہی جو آج ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں
ان العرب و الھند یتقاربان علی مذھب واحد
عرب اور ہندوستان تقریبا ایک ہی مذہب پر ہیں
یعنی بت پرستی پر متفق ہیں
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ
ہندو سومنات کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں؟
سومنات ہندؤں کے نذدیک ویسا ہے جیسے مسلمانوں کے نذدیک کعبہ ہے
ایسا کیوں ہے؟
کیونکہ بعض مصادر یہ کہتے ہیں کہ
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لات و منات کو توڑنے کا حکم دیا تھا تو ان کو توڑ دیا گیا تھا
اس وقت بعض مشرکین منات کو سمندر کنارے لے گئے وہاں سے اسی ٹوٹے بت کو ہندوستان سے آئے ہندو اٹھا کر ہندوستان لے گئے اور وہاں نصب کر دیا
اور کہنے لگے
اب یہ پہلے سے سو گنا زیادہ طاقت ہوگیا ہے تب سے اسے سومنات کہا جانے لگا
سلطانِ اجل بت شکن ولی کامل عالم و فقیہ سلطان محمود غزنوی نے سومنات کا بت توڑ دیا تھا اور ہندو بنیا کو رسوا کر دیا اسی وجہ سے آج بھی جس کی رگوں میں ہندوانہ خون ہے وہ سلطان محمود غزنوی کو غاصب سمجھتا ہے
ہندوؤں نے اسے پھر تعمیر کیا
اب قربِ قیامت میں امام مہدی غزوہِ ہند کریں گے اور اس سومنات یا منات بت کو توڑ دیں گے
واللہ اعلم
آج ہندؤں اور عرب کے بدوؤں میں بڑھتی گاڑھی محبتوں سے مذکورہ باتیں حقائق سے قریب لگتی ہیں
جس ہندوستان میں مسلمانوں کے بچوں کو ذبح بچیوں کو مرتدہ بنایا جاتا ہو
مساجد کو مندر بنایا جاتا ہو کشمیر کے مسلمانوں کو مسلسل شہید کیا جاتا ہو
اسی ہندوستان کے کٹر ہندؤوں کو مدینہ طیبہ میں یہ بدو بلا لیتے ہیں
ان ہندووں اور بدوؤں میں ایسی کونسی گاڑھی اور خالص یاری ہے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
