روبیضہ نہ بنیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 63

کیسے کیسے گھٹیا لوگ امورِ عامہ میں کلام کرتے ہیں
خصوصاً خارجی سوچ افراد کے دماغوں میں خناس ہوتا ہے کہ وہ قتل و غارت کریں تب بھی حق پر ہیں اور جہاد سے روک دیں اور رک جائیں تب بھی حق پر ہیں
خارجی سوچ ہمیشہ امت کو اندر سے ڈستی رہی ہے
انہیں پاجیوں کے لیئے حدیث مبارکہ میں آیا

وينطق فيها الرويبضة قيل وما الرويبضة يارسول الله؟ قال: الرجل التافه يتكلم في أمر العامة
روبیضہ امورِ عامہ میں کلام کرے گا
عرض کی گئی
روبیضہ کون ہے
فرمایا وہ گھٹیا آدمی جو امور عامہ میں کلام کرے
❗مسند احمد ❗
یعنی نہ مزاجِ اسلام کی خبر نہ حکمت نہ تجربہ نہ علم نہ مشاہدہ نہ لوگوں کے حالات کی خبر مگر پھر بھی بڑھ چڑھ کر اپنی عقلِ بد سے مفکر بنے پھریں گے
اگر تیر جا رہا ہے تو جانے دیں اسے چھیڑیں نہیں
اگر آپ کی عقل کوتاہ ہے تو سکوت کریں
مگر کسی کی اندھ بھگتی میں گرو کے گونہہ کو مشک اور موت کو عطر ثابت نہ کریں
خارجی سوچ ور باطنی فتنہ برابر ہیں
ہر نئے فتنے پر کلام کرنا عالم کی نہیں احمق کی نشانی ہے مگر ہمارے ہاں جب کوئی نیا فتنہ آتا ہے تو بغیر سوچے سمجھے اس میں کود جانا عملیت سمجھا جاتا ہے تاکہ کل کہا جا سکے سب سے پہلے رد ہمارے حضرت نے کیا تھا
انتظار کریں , ٹھہریں دیکھیں سمجھیں اور پھر بنتا ہو تو قلم اٹھائیں زبان چلائیں کیونکہ عموماً فتنہ خود اتنا طاقتور نہیں ہوتا اس کا رد اسے مشہور اور بار بار اس کا ذکر اسے مضبوط کر دیتا ہے
کاش کہ نوجوان سمجھتے
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top