طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 62
زمانہ پرفتن ہے
شیطان مسلمانوں کے ایمان کا شکار طرح طرح کے ہتھیار سے کرنے کو تیار ہے
اس پر فتن دور میں سب سے زیادہ جس شے کی فکر ہونی چاہئے اسی کی فکر مسلمانوں کو نہیں ہے
اور وہ ہے ایمان کی حفاظت
عوام تو دینی مسائل و احکام اور دینی اشیاء کا مذاق جہالت میں اڑا کر کفر میں جا پڑتی ہے
یہاں تو خواص بھی اپنے ایمان کو بچانے کی فکر سے عاری نظر آتے ہیں
ایک اصول یاد رکھیں
دینی اشیاء کا مذاق اڑانا کفر ہے
بلکہ کسی نے مذاق اُڑایا اس پر راضی ہونا بھی کفر ہے
بلکہ کسی نے مذاق اڑایا اس پر ہنس پڑنا بھی کفر ہے
آج کل ایک رواج سا بنا ہوا ہے
کہ دینی مسائل مزاحیہ انداز میں فتویٰ پوچھنے کے انداز پوچھے جاتے ہیں
اور پھر اس کے جواب میں مزاحیہ جواب لگا کر شیئر کیا جاتا ہے
یہ شریعتِ مطہرہ اور فتویٰ نویسی کا استھزاء ہے جو کہ کھلا کفر ہے
مثلاً
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے
پھر کوئی مزاحیہ سوال ہوتا ہے
جس کا جواب مفتیانِ کرام کے انداز کے مطابق ہوتا ہے
مثلاً
الجواب …….
اور انداز فتویٰ نویسی کا ہوتا ہے
یہ شریعتِ مطہرہ سے ٹھٹھہ اور مذاق نہیں تو کیا ہے؟
ایسا انداز اپنانا کفر ہے
اگر کسی نے ایسی پوسٹ لکھی راضی ہو کر شیئر کی اس پر توبہ و تجدیدِ ایمان فرض ہے
شرح فقہ اکبر میں ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں
ایک شخص اونچی جگہ پر بیٹھا باقی نیچے بیٹھے اور اس سے مزاحیہ انداز میں شرعی مسائل پوچھے اور پھر ہنستے رہے تو سب کی تکفیر کی جائے گی
یہاں پر مزاحیہ انداز میں مسائلِ شرعیہ بیان کرنے کو تکفیر سے متعلق کیا ہے
اسی طرح
استاذ نجم الدین الکندی سے منقول ہے
کسی نے دینی استاذ کی صورت بنا کر لاٹھی سے بچوں کو مزاح میں مارا اس کی تکفیر کی جائے گی
❗الجامع فی الفاظ الکفر لبدر الرشید المتوفیٰ 768 ھجری ❗
مسلمان کو کوئی متنبہ کرے کہ یہ لفظ یا یہ جملہ کفریہ ہے یا ہو سکتا ہے
تو محتاط مومن آئیں بائیں شائیں کرنے کی بجائے ایمان کی حفاظت کی فکر میں فوری توبہ و تجدیدِ ایمان کرتا ہے
غصہ و بحث نہیں کرتا
ایمان بچا لیا تو دنیا میں زندہ رہنے کا مقصد پا لیا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
