تاریخِ_اسلامی 62
محیط رضوی فی فروع فقہ الحنفی میں ہے
(1) مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایک ساتھ دو تلواروں سے لڑتے تھے
مولا علی تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ شجاعت والے تھے
اعلی حضرت عرض گزار ہیں
مُرتَضیٰ شیرِ حق اَشجع الاشجَعیں
ساقیِ شِیر و شربت پہ لاکھوں سلام
اور دوسری جگہ عرض کیا
مرحبا اے قاتلِ مَرحب امیر الاشجعیں
در ظِلالِ ذُوالْفقارَت شورِ محشر آمدَہ
اور یہ آپ کی بہادری کا اظہار تھا کہ بیک وقت دو تلواریں چلایا کرتے تھے
(2) اسی طرح سیرتِ حلبیہ میں ہے
اسد اللہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی جنگ بدر میں دو تلواروں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور بلند آواز سے فرما رہے تھے انا اسد اللہ
(3) اسی طرح حواری رسول سیدنا زبیر بن عوام بھی بیک وقت دو تلواروں سے لڑتے تھے
(4) اسی طرح سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید بھی بیک وقت دو تلواروں سے لڑنے میں ماہر تھے
(5) اسی طرح بامسی بیرک کے بارے آتا ہے وہ بھی دو تلواروں کے ساتھ میدان میں اترتے تھے
کچھ مؤرخین کے مطابق بامسی بیرک ترکوں کے جد اعظم اوغوز خان کے ساتھی تھے
اور کچھ کے مطابق سلطان عثمان غازی کے بہت بعد سلطنت عثمانیہ کے ایک بہادر سپاہی تھے جو دو تلواروں سے جنگ کرتے اور دشمنوں کو حیران کر دیتے تھے
بہرحال دونوں روایتوں کے مطابق بامسی بیرک عثمان غازی کے زمانے کے نہیں تھے
تاریخ کی صرف پانچ ہستیاں ہیں جو دو تلواروں سے میدان جنگ میں اترتی تھیں
اور ان میں چار صحابہ کرام اور پانچویں بھی مومن تھے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
