دار سے پہلے جار

اسلامی_طرزِتربیت 225

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنھا { جو دنیا میں فرعون کی زوجہ تھیں فرعون مخنث تھا اور جنت میں حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ ہوں گی } نے یوں دعاء کی جسے قرآن کریم نے ذکر فرمایا

رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
اے میرے رب میرے لیئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے
اس کی تفسیر میں علماء کرام نے فرمایا
اختارت الجار قبل الدار
سیدہ آسیہ نے گھر سے پہلے پڑوسی اختیار کیا اس طور پر کہ دعاء میں کہا اپنے پاس گھر بنا

حدیثِ مبارکہ میں ہے

الجار قبل الدار والرفيق قبل الطريق
پڑوسی کا انتخاب گھر خریدنے سے پہلے کرو اور سفر سے پہلے ہمسفر کا انتخاب کرو
❗ کشف الخفاء ❗
الغرض کسی بھی شے کے آغاز سے پہلے سے انجام پر نظر رکھیں یہی دور اندیشی ہے
پڑوسی اچھا ہو تو گھر کی عزت محفوظ رہتی ہے مال و جان امن میں ہوتے ہیں
ہم سفر اچھا ہو تو سفر اطمینان سے گزر جاتا ہے
زندگی کا ہمسفر ساتھ دینے والا ہو رنج و الم آسانی سے سہے جا سکتے ہیں
اچھے پڑوسی بنیں اچھے رفیقِ سفر بنیں اچھے شریکِ حیات بنیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top