خاموش گردش

لطائفِ_علمیہ 72

قدیم فلاسفہ کے نذدیک آسمان نہایت تیز گھوم رہا ہے
اس کی گردش اتنی تیز ہے کہ محسوس ہوتا ہے ساکن ہے جیسے پنکھا رکا ہوا محسوس ہوتا ہے جبکہ وہ تیزی سے گھوم رہا ہوتا ہے
انسان بعض اوقات غموم و آلام کے طوفانوں میں گِھرا ہوتا ہے مگر بظاہر ساکن ہوتا ہے
ذمہ داریوں کی رسی اسے باندھ کے رکھتی ہے ورنہ وہ کثرتِ رنج و آلام سے پاش پاش ہو جائے , طوفانوں میں اڑ جائے , ہواؤں میں اڑ جائے
سلام ہو ان پر جو دل و دماغ میں چلنے والے طوفانوں سے سکون و سکوت سے مقابلہ کرتے ہیں
کسی کے ساتھ ہونے یا نہ ہونے کا شکوہ نہیں کرتے
کسی کا احسان نہیں رکھتے
✍️ سید مہتاب

Scroll to Top