جب منگولوں کو پہلی بار شکست ہوئی

تاریخِ_اسلامی 10

اندر کا اسلام باہر نظر آتا ہے

ہلاکو خان نے بڑی رعونت سے سیف الدین قطز کو خط لکھا

تمہاری زیادہ تعداد ھمارے نذدیک بہت کم ھے
تمہارے عزت دار ہمارے نزدیک ذلیل ہیں

تمہارے بادشاہوں کی اہانت کے سوا بھی ہمارے پاس راستے ہیں

بات طویل نہ کرو مختصر سا جواب دو

آگ بھڑکنے سے پہلے اس کے شعلے بلند ہونے سے قبل ہماری اطاعت کر لو ورنہ آگ ایسے جلائے گی کہ تمہیں کہیں پناہ نہ ملے گی
اس وقت تک منگول دنیا میں اپنی دہشت جما چکے تھے
ان کو ایک بار بھی شکست نہیں ہوئی تھی
گویا اس وقت زمین پر سپر پاور منگول تھے
مگر جسے خط لکھا وہ الله رب العالمین کے شیروں میں سے ایک شیر تھا

سیف الدین قطز نے جواباً لکھا

کتنی عجیب بات ھے
شیر کو چوہوں سے ڈرا رہے ہو جنگلی جانوروں کو بھیڑ بکریوں سے خوف زدہ کر رہے ہو

ہماری تلواریں یمنی ہیں
ہمارے نیزے بہت تیز ہیں
ہمارے کندھے آپس میں ملے ہوئے ہیں

ہمارے گھوڑے شیر کی طرح ہیں جب وہ حملہ آور ہوتے ہیں
اور ہماری کھالیں ہی ہماری ڈھال ہیں

پھر تاریخ نے دیکھا کہ مسلمانوں نے پہلی بار عین جالوت کے میدان میں منگولوں کو پہلی زبردست شکست دی

جس کے بعد منگولوں کا رعب و دبدبہ ختم ہو گیا

اسی معرکے سے شہرت پانے والا غلام بعد میں سلطان بیبرس کے نام سے مشہور ہوا

بیبرس اکثر کہا کرتا تھا
منگولوں کو ہمارے سامنے آنے دو ہم ان کو بتا دیں کہ جنگ کیا ہوتی ھے
پھر واقعی بیبرس نے ان کو دکھا دیا کہ جنگ کیا ہوتی ھے
اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کے درجات بلند فرمائے
اب ذرا تصور کریں
موجودہ وقت میں ایسی صورتِ حال پیش آجائے تو ؟
کس کی غیرت غیرتِ اسلامی ہوگی ؟
ملکی غیرت یا قومی غیرت چند لمحوں کے لیئے اٹھتی پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے
ایمانی غیرت پہاڑ کی طرح قائم رہتی ہے
اور ایمانی غیرت پہلے اس مسلمان حاکم پر اسلامی حلیہ نافذ کرتی ہے پھر رہنماء بناتی ہے
جس کا حلیہ اسلامی نہیں وہ اسلامی رہنماء نہیں ہو سکتا
کیونکہ جس کا اندر مسلمان ہو اُسی کا ظاہر بھی اسلام سے مزین ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top