علماء و فقہاء سے امت کی بے وفائی

تاریخِ_اسلامی 11

قلموں کے تراشوں سے میت کا پانی گرم کروانے والے

امام ابن الجوزی {متوفی 597 ھجری} عالم اسلام کے بہت بڑے فقیہ محدث مفسر مورخ صوفی عالم تھے

علامہ ابن جوزی کے ہاتھ پر بیس ہزار سے زائد یہود و نصاری نے اسلام قبول کیا

ایک لاکھ سے زیادہ گناہ گار لوگوں نے توبہ کی

آپ نے تین سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں

امام ابن جوزی نے اپنی زندگی میں جن قلموں کو تراش کر کتابیں لکھی تھیں
ان قلموں کا تراشہ سنبھال کر رکھا اور وصیت فرمائی کہ میری میت کو غسل دینے کے لیے جو پانی گرم کیا جائے وہ قلموں کے ان ترشوں سے گرم کیا جائے

اتنے عظیم محدث مصنف تھے
اس کے باجود اپنے شاگردوں کو فرمایا کرتے تھے
کہ
جب تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہاں مجھے نہ دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے عرض کرنا کہ اے مالک و مولا تیرا ایک بندہ تھا جو ہمیں تیری یاد دلاتا تھا

اتنا کہنے کہ بعد آپ رونے لگ جاتے تھے

ابن جوزی کی تین سو کتابیں امت پہ بہت بڑا احسان ہے

مگر اس امت نے ان کے احسان کا صلہ یوں دیا کہ امام ابن جوزی کے مزار مبارک کو فروخت کر دیا گیا اور وہاں ٹیکسی سٹینڈ بنا دیا گیا

یہ امت اپنی تاریخ اپنے ہیرو کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ذلیل و رسوا کر دیتی ہے
صرف ابن جوزی کی قبر کا یہ حال نہیں ہے
آپ بقیعِ پاک میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اھلِ بیت کی قبور کا حال دیکھ لیں
آپ جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ رضی الله عنھا کی قبر مبارک کا حال دیکھ لیں
عرب شریف میں جنت المعلیٰ اور بقیع پاک کی قبور کو وہابیہ نے شہید کیا جبکہ عراق میں ابن جوزی کی قبر کو رافضیہ نے شہید کیا

اللہ تعالیٰ ان کو ھدایت دے اور امام ابن جوزی کی قبر مبارک کو شریروں کے شر سے بچائے اور اس پر کروروں رحمتوں کا نزول فرمائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top