عشقِ_سیدِ_عالم 25
ذکرِ محبوب پر چہرہ سرخ کیوں ہو جاتا ہے
ترکیوں کی پرانی اور بہت پیاری عادت ہے کہ وہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک نام سنتے ہیں تو اپنے ہاتھ دل پہ رکھتے ہیں
ترکوں کے دل پہ ہاتھ رکھنے کی اصل حکمت یہ ہوتی ہے
کہ
جب مومن کے سامنے جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک ہوتا ھے تو اسکا دل دھڑک اٹھتا ھے اور مچل جاتا ھے
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ان صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے شوق میں یوں پھڑکتا ھے گویا ابھی سینہ چیر کر باہر آ جائے گا
تو مومن دل پر ہاتھ رکھ کر دل کو تسلی دیتا ھے کہ اے دل صبر کر کہ ابھی اس پاک ذات صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا وقت نہیں آیا
ھماری ان سے ملاقات میدانِ محشر میں ہوگی
حوضِ کوثر پہ ہوگی لہذا ابھی صبر کرو
اور یہ حقیقت بھی ہے کہ حکماء نے کہا کہ روح کا گھر قلب ہے جب روح کسی محبوب کو دیکھتی ہے تو اس کی طرف نکل کر جانا چاہتی ہے تو دل پر اثر پڑتا ہے یوں دل دھڑکتا ہے
اسی کو دل کا دھڑکنا کہتے ہیں
روح لطیف شے ہے
جو محبوب کو دیکھ یا سن کر اوپر کی طرف اٹھتی ہے جیسے پانی بخارات بن کے اٹھتا ہے
اور روح کا اٹھنا چہرے کی طرف ہوتا ہے اسی وجہ سے محبوب کو دیکھ یا محبوب کا ذکر سن کر چہرہ سرخ ہو جاتا ہے
اور اگر روح خوف محسوس کرے تو چہرہ سیاہ یا پیلا پڑ جاتا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ روح کا مسکن قلب ہے ناپسند شے دیکھ کر خود سے روح اپنے گھر میں سمٹ جاتی ہے جیسے انسان خوف سے سمٹ کر دیوار سے لگ جاتا ہے یوں ساری روح نچڑ کر دل میں چلی جاتی ہے اور چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر تو روح سرشار ہو جاتی ہے
اسی وجہ سے ترکی سینے پر ہاتھ رکھتے ہیں
تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر دل دھڑکے تو ترکی اسے تسلی دیتے ہیں اور تھپکتے ہیں
کتنا ہی مزہ آئے کہ اُن صلی الله علیہ وسلم کو ہم دیکھیں تو دل دھڑکنا شروع کرے
اور پھر وہ صلی الله علیہ وسلم اپنا دستِ اقدس ہمارے سینے پر رکھیں
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو تیرا ہاتھ دھرا ہو
کیا ہی بہترین لوگ تھے وہ کتنا ہی باکمال انداز تھا ان کا وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مستغرق رہا کرتے تھے
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق و ادب عطاء فرمائے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
