عشقِ_سیدِ_عالم 24
,حاکم و ابن عساکر اور بیہقی نے روایت کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا تم جانتے ہو کس کا ایمان عجیب تر ہے*
,عرض کی گئی فرشتوں کا,
فرمایا وہ تو رب کے پاس ہیں ان کا ایمان کیسے عجیب ہوا
,عرض کی گئی انبیاء کرام کا,
فرمایا ان پر تو وحی اترتی ہے ان کا ایمان کیسے عجیب ہوا
,عرض کی گئی پھر ہمارا ایمان عجیب ہے,
فرمایا تمہارا ایمان کیسے عجیب ہوا جبکہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم میرے معجزات دیکھتے ہو
پوچھا گیا پھر کس کا ایمان عجیب تر ہے
فرمایا
,وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے ان کا ایمان عجیب تر ھے
یہاں اردو والا معنی نہیں رکھتا بلکہ بطورِ مدح و تعریف مراد ہے اگرچہ اس میں تعجب بھی ہے کہ تعجب اور بہترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائیں گے
ایک حدیث پاک میں ھے کہ فرمایا
مجھے اپنے بھائیوں سے ملاقات کا شوق ھے
صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟
فرمایا تم تو میرے اصحاب ہو میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور مجھے بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے
الله الله
,لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے کہ ہمارے سرکار نے دو عالم کے مالک و مختار نے ہمیں اپنا بھائی کہا ہے,
اپنے فرمان کی مراد وہی بہتر جانتے ہیں مگر ظاہری معنی ہمیں شرمندہ کر دیتا ہے کہ تم اتنے گناہ گار اور تم پر ایسی عنایات, کیسی قسمت پائی ہے اے امت مرحومہ!
ایک اور حدیث پاک میں فرمایا
مجھ سے شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے اور تمنا کریں گے کہ ان کے مال و اولاد کے بدلے میں وہ مجھے دیکھ لیں
یعنی سب کچھ لے لیا جائے اور ایک بار اس جانِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہو جائے جس کی یاد میں ہم روتے ہیں , جس کا کلمہ پڑھا ھے
توحید کے بعد جس نکتہ پر امت متفق ہے وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے
کوئی بھی ہو کسی بھی مسلک و مذہب کا ہو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ھے
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اصلِ ایمان اور مدارِ نجات ھے
اور یہی جذبہ کفار مسلمانوں کے دلوں سے نکالنا چاہتے ہیں
اقبال نے کفار کی چالوں کو اس شعر میں بے نقاب کر دیا کہ ابلیس یہ پیغام اپنے چیلوں کو دیتا ہے
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
جس کا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق سلامت اسکی توحید بھی سلامت اور جس کا عشق سلامت نہیں اسکی توحید بھی نا مقبول
اسی وجہ سے پنجابی میں کہا گیا
ایمان سلامت ہر کوئی منگے عشق سلامت کوئی
ایمان کی سلامتی ضرور مانگیں مگر کامیاب وہ ہے جو ایمان کے جوہر , ایمان کے نچوڑ , ایمان کی جان , ایمان کی روح یعنی عشقِ جنابِ محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی سلامتی مانگتا ہو
سیدمہتاب_عالم# ✍️
