اپنے آباء کا رحم اور دشمنوں کا ظلم بتائیں

تاریخِ_اسلامی 34

عراق پر قبضے سے پہلے کی دائیں طرف کی تصویر
اور امریکی حملہ آوروں کے ہاتھوں قید ہونے کے بعد اُسی شخص کی بائیں طرف کی تصویر ہے

یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ عراقی پروفیسر اور ایٹمی سائنسدان حامد خلف العقیلی ہیں

جو اس وقت بغداد کی گلیوں میں پٹھے پرانے کپڑوں اور بڑھے بالوں کے ساتھ گھومتے پھرتے ہیں
عراقی طلباء ان سے کیمسٹری کے ان سلجھے سوال پوچھنے پہنچ جاتے ہیں
اور وہ ان کے سوالات کے جوابات سلجھا کر دیتے ہیں

ان کی جائداد چھین لی گئی ان کے اثاثہ جات ضبط کر لیئے گئے انکے خاندان کو مار دیا گیا اور پھر ان کو اذیت ناک جیل میں پھینک دیا گیا
جہاں وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے پھر ان کو انسانیت کے ٹھیکیداروں نے آزاد کر دیا
ایک عراقی عرب ایٹمی سائنسدان کیمسٹری پروفیسر کو غیر انسانی سلوک سے دبایا گیا
نیو ورلڈ آرڈر کے تحت مسلمانوں کے اعلی دماغوں کو خرید لیا جاتا ہے اور جو نہ خریدا جا سکے اس کا یہی حال کیا جاتا ہے

ہمارا دشمن کم ظرف ہے وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کے بعد کوئی اور اسلامی ملک ایٹمی طاقت بن سکے اسی وجہ سے یہ کم ظرف دشمن علم والوں کو اذیتیں دیتا ہے حالانکہ علم والا دشمن بھی ہو تو اس کے منصب کا لحاظ رکھا جاتا ہے

اصل بات تو یہ ہے کہ
نہ سمجھو گے مٹ جاؤ گے اے مسلمانوں
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں
مسلمانوں نے اقوامِ عالم کو جینے کا ڈھنگ سکھایا علوم و فنون کے دریا پلائے , مہذب اقوام بنایا مگر جب ان کا ہاتھ پڑا تو انہوں نے سانپ کو دودھ پلانے والا معاملہ کیا
ملکوں کی جنگوں میں شروع سے اصول ہے کہ مذہبی افراد و علمی حضرات کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا مگر دشمن جب گرا ہوا ہو تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے
نوجوان سمجھتے ہیں کہ صلیبی جنگ ختم ہوچکی ہے اور یہ بہت بڑی غلطی ہے

ھم بھول گئے مگر وہ نہیں بھولے اور جس دن ہمارے جوانوں کو وہ یاد آئے گی امت میں اٹھان پیدا ہونا شروع ہو جائے گی
لہذا اپنے بچوں کو تاریخ پڑھائیں, دشمن کے ظلم بتائیں, دشمن کی چالیں بتائیں
آنے والی نسل کتابیں شاید ہی پڑھے تو ان میں دین کی خدمت کا جذبہ اور اپنے آباء و اجداد کی بہادری کا فخر والدین نے اجاگر کرنا ہے
ایک خاص وقت رکھیں سب بچوں کو یا جسے ممکن ہو سکے یومیہ اسلاف کے کارنامے اور دشمنوں کے ظلم بتائیں
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top