جب مسلمان یورپ کے استاد تھے

تاریخِ_اسلامی 33

فرانسیسی مورخ لوئس پیئر یوگن کہتا ہے

عربوں کا اثر جدید یورپی تہذیب کی تمام شاخوں میں ظاہر ہوا
بے مثال سائنس اور ادب نے جنم لیا

ان کی ایجادات اور صنعتیں اس حیرت انگیز سرگرمیوں کی گواہی دیتی ہیں جو اس وقت کے عربوں کی خصوصیت تھی
اور یورپ پر ان کے زبردست اثرات تھے
وہ واقعی ہمارے استاد تھے

جناب وہ ہمارا عروج تھا جس کو دیکھ کر معتدل یورپی مورخ اقرار کرتے ہیں کہ ھم یورپ کے استاد تھے
اور زوال یہ ہے کہ ھم یورپ کے شاگرد تو کیا غلام بن چکے ہیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top