ردِالحادو_لادینیت 35
تھا Uta Binga پگمی قبیلے کا ایک شخص Maputi کانگو میں
غلاموں کے تاجروں نے اس کے گاؤں پر حملہ کیا
اس کی بیوی اور دو بچوں کو قتل کر دیا اسے گرفتار کر کے غلاموں کی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لیے پکڑ لیا
اور وہاں اسے ولیم میک جی نامی ایک پاگل امریکی سائنسدان نے خریدا تھا جو ڈارون کے نظریے پر یقین رکھتا ہے جس کے مطابق انسان اصل میں ایک بندر ہے
اس نے اسے زنجیروں میں باندھ کر جانور کی طرح پنجرے میں بند کر دیا
اور اسے نیویارک کے برونکس چڑیا گھر میں نمائش کے لیے امریکہ لے گیا
اور اس غلام کو اپنے باطل گمان کے
{ انسان کے قدیم آباؤ اجداد بندر تھے }
مطابق کچھ بندروں چمپینزیوں ساتھ نمائش میں رکھا
1904 کی بات ہے جب ڈارون کے نظریہ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا
جبکہ اس غریب اوٹا بنگا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ انسان ہے تو اسے باغ کے محافظوں اور ملحد ڈاکٹر ولیم نے بری طرح مارا
اور پنجرے میں رکھے “اوٹا بنگا” کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ کوئی جانور ہو
لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں اور اس پر کیلے پھینکتے ہیں اور اس کی شکل کا مذاق اڑاتے ہیں
1916 میں “بنگا” یہ سب ظلم و ستم برداشت نہ کرسکا اور پنجرے میں رہنے کے بعد وہ یہ سمجھنے سے مایوس ہو گیا کہ اس کو کبھی انسان سمجھا جائے گا
تو اس نے چڑیا گھر کے گارڈ سے پستول چرا لیا اور رات کو روتے ہوئے اپنے سر میں گولی مار دی ساتھ اس وقت وہ چیخ چیخ کر کہ رہا تھا کہ میں ایک انسان ہوں
میں ایک انسان ہوں
زیر نظر تصویر امریکہ کے ایک چڑیا گھر کی ہے جو 1958 میں لی گئی تھی
جس میں ایک سیاہ فام بچی کو جانوروں کی طرح پنجرے میں بند ر رکھا ہے اور لوگ اس کو کیلے پھل وغیرہ ڈال رہے ہیں
جن ظالموں کو انسانیت سمجھے ستر سال نہیں ہوئے اور مسلمانوں اور اھل اسلام کو انسانیت سکھانے کی کوشش کرتے ہیں!
پہلے واقعے میں ایک سائنسدان کی ڈارون کے نظریئے میں شدت پسندی اور ظلم و تعصب صاف نظر آتی ہے مگر مجال ہے کہ کوئی لبرل کچھ بول سکے
اگر سائنس اس گری ہوئی ترقی کا نام ہے تو پتھر کا زمانہ اچھا تھا
پچھلی صدی میں فرنگیوں نے باقاعدہ انسانی چڑیا گھر بنا رکھے تھے جہاں سیام فام مروں عورتوں بچوں کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا تھا
اور ان کو جانوروں والی خوارک دی جاتی تھی
اگر ایسے جاہل کسی کے ہیرو ہیں ایسے غلیظ کسی کے رہنماء ہیں ایسے گھٹیا معاشرے کو کوئی مثالی کہتا ہے تو اس سے گرا ہوا انسان کون ہے؟؟؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

