ردِالحادو_لادینیت 34
1958-1962 کے درمیانی عرصے کے دوران ماؤ زیڈونگ نے چینی کسانوں کو پرندوں کو مارنے کا حکم دیا
کیونکہ وہ گوداموں اور کھیتوں میں اناج اور فصلیں تباہ کرتے تھے
پرندوں کے قتلِ عام کی وجہ سے ماحولیاتی نظام میں ایسا عدمِ توازن پیدا ہوا کہ کیڑے ان مکوڑوں کی کثرت ہوئی جن کو پرندے کھا جاتے تھے
کیڑے پھیل گئے اور فصلوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے تقریبا دو کروڑ سے زیادہ لوگ بھوک سے مر گئے
نظامِ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا یہی انجام ہوتا ہے قدرتی نظام کا اپنا توازن ہے جس کو بگاڑنے کی کوشش بہت زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے
اللہ وحدہ لاشریک کے بنائے نظام میں اپنا نظام نافذ کرنے سے ایسی تباہی آتی ہے کہ پھر شہروں کے شہر اجڑ جاتے ہیں اور تاریخِ انسانی میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں
یہ جسے ترقی یافتہ دور کہا ہے حقیقت میں فطری نظام سے متصادم نظام لانے کی کوشش ہے
انسانی نظام لانے کے لیے اخلاقی اقدار کو ٹھوکر مارنی پڑتی ہے
فطری نظام میں سے مرد کا حاکم عورت کا محکوم ہونا بھی ہے
اس وقت دیکھ لیں ایک بیہودہ عورت کی حکمرانی نے سینکڑوں مسلمان شہید کیئے ہزاروں کو بے جا قید میں رکھا ہوا ہے اور لاکھوں مسلمانوں کے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں
الحاد یافتہ سوچ ہر شعبہائے زندگی میں عورت کو مسلط کرنا چاہتی ہے اور احمق عورت بھی اسی سوچ سے متاثر ہوتی ہے
یہ دجالی نظام کی تیاری ہے کہ سب کو برابر کر دیا جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
