اسلامی_طرزِتربیت 22
نعمتِ عامہ اور نعمتِ خاصہ کیا ہیں
امام حسن بصری نے فرمایا
إنَّ جُور الملوك نقمة من الله عز وجل ونقم الله لا تُلاقى بالسيوف وإنما تُتقى وتستدفع بالدعاء والتوبة
بادشاہوں کا ظلم اللہ تعالیٰ کا انتقام ہوتا ھے
اور اللہ تعالیٰ کے انتقام سے تلواروں کے زور پہ نہیں بچا جا سکتا بلکہ توبہ و دعا کے ذریعہ سے بچا جاتا ھے
{اداب الحسن البصرى لابن الجوزی}
لہذا اپنے حکمرانوں کے ظلم و ستم سے بچنا ہے تو صدقہ و خیرات کریں توبہ و استغفار کریں
اللہ تعالیٰ رحم کرے گا اور کوئی ایمان کامل والا حکمران عنایت فرما دے گا
عادل و متقی حکمران مثل عمر بن عبد العزیز محمود غزنوی صلاح الدین ایوبی اورنگزیب عالمگیر وغیرہم الله رب العزت کی نعمتیں ہیں
یاد رکھیں
کچھ نعمتیں بطور انعام و اکرام ہوتی ہیں
کچھ نعمتیں بطور آزمائش و امتحان ہوتی ہیں
عادل حکمران ” نیک اولاد ” علمِ دین یہ نعمتیں بطور انعام و اکرام ہیں
ایسی نعمتوں پر شکر ادا کریں یہ باقی رہیں گی
اولاد ” صحت و تندرستی” مال و شہرت یہ نعمتیں بطور امتحان ہوتی ہی ں
ایسی نعمتوں پر شکر کریں اور استغفار کریں کہ کہیں یہ نعمتیں وبالِ جان نہ بن جائیں
اور جو نعمت حاصل نہیں اسے پانے کے لیئے دعاء کریں
نعمت کی پھر دو قسمیں ہیں`
نعمتِ عامہ اور نعمت خاصہ
نعمتِ عامہ
جو پورے معاشرے کے لیئے مفید ہو
مثلاً بروقت بارش” پھلوں کی کثرت” نیک حاکم کا ہونا
نعمتِ خاصہ
جو ایک شخص کو فائدہ دے
مثلاً صحت و عافیت وغیرہ
اس وقت امت مجموعی طور پر نعمتِ عامہ سے محروم ہے
اس کی ایک وجہ اس نعمت کے حصول کی کوشش نہ کرنا ہے
یہاں جمہوریت سے عادل حکمران تلاش کرنے کی سعی لا حاصل کی جاتی ہے
گویا بیل سے دودھ کی امید رکھی جاتی ہے
اس نعمتِ عامہ کو حاصل کرنے کے اولاً دعاء کی کثرت پھر جہد و جہد تیز کی جائے
ان شاءاللہ العزیز رحمتِ الٰہی سے نعمتِ عامہ مل جائے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
