اسلامی_طرزِتربیت 23
بڑی بڑی مساجد کے ساتھ مدرسہ کیوں نہیں بناتے
امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب
الاسلام المفتری علیہ
میں فرمایا
ان اغنیاء المسلمین مع الاسف الشدید و العمیق اذا قورنوا باغنیاء البلاد الاخری یعتبرون اخس اغنیاء العالم
بہت شدید افسوس کی بات ہے کہ جب دولت مند مسلمان کا مقابلہ دوسرے ملکوں کے غیر مسلم دولت مندوں سے کیا جائے تو تو یہ دولت مند مسلمان انتہائی گھٹیا معلوم ہوں گے
اس وجہ یہ ہے
کہ
یہود و نصاری کے مالدار اپنا مال اپنی دولت اپنے فقراء و غرباء پہ خرچ کرتے ہیں
اپنے معاشرے کی اصلاح و عوام کی فلاح و بہبود پہ استعمال کرتے ہیں
جس کی وجہ سے ان کا معاشرہ مالی لحاظ سے مضبوط ہوتا ھے
جبکہ مسلمان مالدار اپنی دولت اپنے مہنگے لباس بہترین جوتے آراستہ و پیراستہ گھر اعلی سواری یعنی کہ ٹھاٹ باٹھ پہ لگا دیتے ہیں
جس کی وجہ سے ان کا فقیر مذید تنگدستی کی چکی میں پستا رہتا ھے
اس بناء پر مسلمان مالدار کے سامنے غیر مسلم مالدار بھی فقیر معلوم ہوتا ھے
اور اسی زیب و آرائش کی دوڑ میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار بھی کھوتا چلا گیا
ہم اپنے کپڑے جوتے اعلی کرتے رہے اور وہ اپنے ملک و شہر اعلی کرتے گئے
تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے
علامہ شعراوی نے فرمایا
إذا رأيت فقيراً فى بلاد المسلمين فاعلم أن هناك غنياً سرق ماله
جب تو مسلمانوں کے شہروں میں کوئی فقیر دیکھے تو یقین کر کہ یہاں کے مالدار نے فقیر کا مال چرا لیا ہے
وجہ اس کی یہ ہے کہ
شہر کے امیر شرعی اصولوں کے مطابق مال خرچ کریں تو اس شہر میں کوئی فقیر باقی نہ رہے
مساجد و مدارس اسلام کے قلعے ہیں جو قوم اپنے قلعے مضبوط نہیں کرتی وہ برباد ہو جاتی ہے
جس ملک کی سرحدی فوج نہ ہو اور وہ ملک کو اندر سے جدید سے جدید تر بنا رہا ہو تو یقین رکھیں غیروں کے لیئے حلوہ تیار کر رہا ہے
کوئی بھی کبھی بھی آئے گا ملک پر قابض ہو جائے گا
آج عیش و عشرت میں رہنے والے کل غلام و محکوم بن جائیں گے
لہذا صدیوں سے انسانی اصول ہے فوج پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے
آپ غرباء و مساکین پر ضرور خرچ کریں
مگر موجودہ دور میں اسلام کے نطریاتی سپاہیوں کو ہرگز نہ بھولیں
آپ کی نسلوں کے نظریات پختہ عقائد مضبوط رہے تو روکھی سوکھی کھا کے گزارہ کر لیں گے
اس لیئے نظریاتی سپاہیوں کی مالی خدمت نہ بھولا کریں
آپ مالدار ہیں تو جو صدقات و عطیات نکالنے ہیں اس کی تقسیم کر لیں
کچھ مساجد و مدارس کو دیں
کچھ رشتہ داروں کو دیں
کچھ فقراء و مساکین کو دیں
کچھ علماء کرام کی خدمت میں صرف کریں
ہمارے ہاں ایک بہت بڑی کمی ہے
مساجد میں جا کے پیسے دے اتے ہیں
مدارس والے آپ کے دروازے پر بار بار آتے ہیں آپ ٹرخا دیتے ہیں
جبکہ دیکھا جائے تو مسجد ایک بار بن گئی تو اب صرف ماہانہ چند ہزار خرچ ہے جس میں بجلی کا بل اور امام و مؤذن صاحبان کی تنخواہ ہے
پھر بھی دھڑا دھڑ مسجد میں دیئے جاتے ہیں
حقیقت میں اسی فیصد مساجد کو دینا بالکل مزارات پر دینے جیسا ہے
جیسے مزار کے احاطے میں پڑے گلے و بکس میں ڈالنا مفید نہیں ویسے ہی اکثر مساجد میں دینا فائدہ مند نہیں ہے
مسجد کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے پڑے ہوتے ہیں بلکہ بے شمار خزانچی اور کمیٹی والے اس مالِ وقف کو اپنی ذاتی کاروبار میں لگا کر اپنا اکاؤنٹ بھر رہے ہوتے ہیں
یہی وجہ تو ہے کہ بڑے شہروں کی بڑی بڑی مساجد کی انتظامیہ مسجد کا مدرسہ نہیں کھولتی نہ کھولنے دیتی ہے`
مدرسہ کھولنے کے نام پر ان کا خون کھولنا شروع ہو جاتا ہے
کیونکہ ان کی ذاتی آمدن بند ہو جاتی ہے
مسجد کے کروڑوں روپے سے ان کے چلتے کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں
اور امام صاحب کی تنخواہ تو وہ بیس بائیس ہزار ہوتی ہے
تو ایسے میں مسجد میں دینا مزار کے دینے جیسا ہے
جہاں حاجت نہیں آپ وہاں دے رہے ہیں
جبکہ مدارس میں لاکھوں کا خرچ ماہانہ ہوتا ہے
کھانا پینا” بجلی کا بل” گیس کا بل” مدرسین کی تنخواہیں وغیرہ وغیرہ
تو آپ خود سوچیں آپ کا پیسہ اکاؤنٹ میں پڑا رہے یا انتظامیہ کے کاروبار میں لگے یا پھر دین میں کام میں خرچ ہو ؟
لہذا اسلام کے قلعے آباد کریں
نظریاتی سپاہیوں پر خرچ کریں
میں یہ نہیں کہتا ہر مسجد کے لاکھوں روپے فضول پڑے ہیں
مگر اکثر ایسا ہوتا ہے
الله رب العزت نے آپ کو مال دیا ہے
قیامت میں سوال ہوگا
مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا
وہاں خرچ کرنا بنتا بھی تھا یا نہیں
لہذا مال جمع کر لیا جان نہیں چھوٹ گئی
خرچ کر لیا تو بھی جان نہیں چھوٹے گی
کہاں خرچ کیا یہ بتانا پڑے گا
دین پر پیسہ لگائیں یہی کام آئے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
