طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 120
°°° صدیقِ اکبر رضی الله عنہ کی دینی خدمت کا عجیب جذبہ °°°
سیدنا ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے چچا کو نصیحت کرتے فرمایا
یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ
اے میرے باپ میرے پاس وہ علم آیا جو آپ کے پاس نہیں آیا
[سورہ مریم]
کتنا دلنشین اندازِ تخاطب ہے
کتنا حکیمانہ اندازِ تفہیم ہے
نہ تفسیق کی [یعنی بات شروع کرتے ہی فاسق نہیں کہا]
نہ تضلیل کی {یعنی شروع سے ہی گمراہ نہیں کہا}
نہ تجہیل کی (یعنی جاہل بھی نہیں کہا )
نہ تکفیر کی [یعنی کافر کہنا شروع نہیں کیا]
بلکہ اپنے چچا کا لحاظ کرتے ہوئے یہ فرمایا
مجھے وہ علم ملا جو آپ کو نہیں ملا
یہی سنتِ انبیاء کرام ہے یہی موعظۃ حسنہ ہے جس کا حکم رب العزت نے دیا ہے
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
اپنے رب کے رستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ
[سورہ نحل]
جو جو تحریر پڑھ رہا ہے اپنے دل سے پوچھے
قرآن کریم سے گفتگو کے آداب سیکھے آپ نے ؟
قرآن مومنوں سے گفتگو کے آداب بھی سکھاتا ہے آپ نے پڑھے ؟
قرآن کفار سے بحث کے آداب بتاتا ہے آپ نے پڑھے ؟
سورہ حجرات نے وہ نکات و آداب دیئے ہیں کہ کسی فلسفی و مودِب کی حاجت باقی نہیں رہ جاتی
جب سیدنا موسیٰ و ھارون علی نبینا و علیھما الصلوۃ و السلام فرعون کے پاس تبلیغ کے لیے جا رہے تھے تو ہمارے رب نے ان کو حکم دیا
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا
تو تم دونوں اس سے نرم بات کرنا
انبیاء کرام علیہم السلام سے بڑھ کر کون غیرت مند
ان نفوسِ قدسیہ سے زیادہ الله رب العزت کا ادب کرنے والا کون ہو سکتا ہے ؟
پھر بھی وہ جلال والے نبی فرعون کو جو کہ خدا ہونے کا مدعی تھا نرم بات کرتے ہیں
اور یہاں دین کے ٹھیکدار تفسیق و تضلیل و تکفیر و تجہیل سے بات شروع کرتے ہیں
سامنے والا سننا بھی چاہے تو نہ سن پائے
اگر دین کی تبلیغ اور اسلام کا غلبہ مقصود ہو تو جسے تبلیغ کر رہے ہیں جس گمراہ کو راہِ راست پر لانا چاہ رہے ہیں اس کی کڑوی کسیلی باتوں کو سہنا بلکہ اس کی منشاء کے مطابق عمل بھی کرنا پڑتا ہے
سیدی صدیق اکبر رضی الله عنہ نے ایسا ہی کیا جب ان کے پاس اشعث بن قیس کو قیدی بنا کر لایا گیا تو اشعث کہنے لگے
{حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اشعث مرتد ہو گئے تھے پھر قیدی بنا کر بارگاہِ صدیق میں لائے گئے}
ذرا دل تھام کر سنیئے ایک قیدی جس پر آپ کا ہر حکم لاگو ہو سکتا ہے وہ کیا کہ رہا ہے اور اسلام کے سچے داعی کا ردِ عمل کیا تھا
اشعث بن قیس نے کہا
يا خليفة رسول الله استبقني لحربك وزوجني أختك
اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ مجھے زندہ رکھیں تاکہ آپ کی جنگوں میں حصہ لوں اور اپنی بہن کی شادی مجھ سے کر دیں
وہ صدیق جو ارحم الامہ ہیں جن کا احسان قیامت تک ہر امتی کی گردن پر ہے وہ غصہ نہیں ہوئے کہ تمہاری مجال تم میرے قیدی ہو پھر بھی میری بہن کا رشتہ مانگ رہے ہو کہ صدیق اکبر رضی الله عنہ نے ویسا ہی کیا جیسا اشعث نے کہا ان کو چھوڑ دیا اپنی بہن کا نکاح ان سے کر دیا
پھر اشعت بن قیس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا جو کہ عظیم سپہ سالار بنے
❗ سیر اعلام النبلاء ❗
اسلام کی خدمت کا سچا جذبہ تھا قیدی جو کہ مرتد ہو گیا تھا پھر اسلام لایا اس کی خواہش پر اپنی ہمشیرہ کا نکاح اس سے کیا
کیوں ؟
کیونکہ نگاہِ صدیق اکبر عارضی شے نہیں دیکھتی مستقبل کے مستقل فائدے دیکھ رہی تھی
ورنہ مہاجرین اولین سابقین کے ہوتے ہوئے مرتد ہو کر پھر مسلمان ہونے والے کو اپنی بہن دینا بڑے جگر اور حوصلے کی بات تھی
اس میں دین کا فائدہ تھا تو وہی کر دیا
الغرض اسلامی حمیت کے لیئے جب دین کا کام کرنا ہے تو سامنے والے کے مقام و مرتبہ کا لحاظ بھی کرنا ہوگا اور اپنی گفتگو کو ستھرا بھی کرنا ہوگا
خود میں برداشت کا مادہ بڑھانا ہوگا حلیم الطبع بننا ہوگا بصورتِ دیگر گالی گلوچ اور بازاری زبان سے اشاعتِ اسلام نہیں ترویجِ الحاد کر رہے ہیں
اور آپ سمجھ لیں کہ آپ اسلامی نہیں ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
