طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 121
°°° پہلے کے علماء اور آج کے علماء کے علوم و عقول میں فرق کیوں ہے °°°
سیدی عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا فرمان ہے
مَن كانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بمن قد ماتَ فإنَّ الحيَّ لا تُؤمَنُ عليه الفِتْنَةُ
جو کسی کی پیروی کرنا چاہے تو وہ اس کی پیروی کرے جو وصال فرما چکا کیونکہ زندہ شخصیت پر فتنے کا امکان ہے
❗جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر ❗
درستی عقائد کے ساتھ حکیمانہ فہم رکھنے والا عالم جب دنیا سے چلا جائے تب اس کی ذات مستند و مستدل قرار پاتی ہے بخلاف اس کے جو زندہ ہے کہ بعض اوقات اس کے نظریات بدل جاتے ہیں تقدیرِ الٰہی غالب آجاتی ہے اور الله رب العزت کی خفیہ تدبیر کی وجہ سے گمراہ ہو جاتا ہے پھر اس کی اتباع کرنے والوں کے لیئے وہ ایک ایسی ہڈی بن جاتا ہے جو نہ نگلی جا سکتی ہے نہ اُگلی جا سکتی ہے
اسی وجہ میں بارہا کہتا ہوں زندہ عالم کسی درجے کا بھی ہو اس کی عزت و احترام کریں مگر اس پر آنکھیں ہرگز بند نہ کریں
سابقہ زمانوں کے بلعم بن باعوراء ” ابن ملجم ” ابن سقا کی مثالیں سامنے ہیں اور ہمارے دور کی بھی کئی مثالیں سامنے ہیں
حدیثِ مبارکہ میں ہے
مَن كانَ مِنكُم مَادِحًا لا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أحْسِبُ فُلَانًا واللَّهُ حَسِيبُهُ ولَا أُزَكِّي علَى اللَّهِ أحَدًا
تم میں سے جو کسی کی تعریف کرے تو یوں کہے میں فلاں کے بارے یہ گمان رکھتا ہوں اور الله اس کو جاننے والا ہے اور میں الله کی بارگاہ میں کسی کی ستھرائی بیان نہیں کرتا
❗بخاری شریف ❗
کتنی صاف بات ہے کہ کسی سے آپ متاثر ہیں اس کے علم و فضل کے آپ معترف ہیں تو بس یہ کہیں میرے گمان میں وہ ایسا ہے اور اپنا گمان کسی پر تھوپا نہ جائے اپنا ظن کسی پر مسلط نہ کیا جائے
کسی کی مدح و توصیف کرنی ہو تو اس کی کریں جو توحیدِ خالص و اعمالِ صالحہ کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ چکا ہو اسی کو مقتداء و رہنماء بنائیں
جیساکہ امام اوزاعی نے فرمایا
عليك بآثار من سلف وإن رفضك الناس وإياك وآراء الرجال وإن زخرفوه لك بالقول فإن الأمر ينجلي وأنت على طريق مستقيم
اسلاف کی باتوں کو لازم پکڑو اگرچہ لوگ تمہیں جھٹلا دیں اور لوگوں کی آراء سے بچو اگرچہ وہ تمہارے سامنے رنگ برنگے قول رکھیں کیونکہ معاملہ بالکل واضح ہے اور تم سیدھے راستے پر ہے
❗سیر اعلام النبلاء ❗
یعنی تیرے دور کے لوگ خواہ کتنی ہی پر دلیل باتیں کریں کان نہ دھرو اسلاف کو اختیار کرو
سیدی عبداللہ بن مسعود کا فرمان ہے
وعليكم بالعتيق
*لتم پرانے دین کو لازم پکڑو
❗معجم کبیر ❗
یعنی پرانے لوگوں کی باتوں کو اختیار کرو وہی خالص دین ہے نئے نئے مسائل ظاہر کرنے والوں سے بچتے رہو
*سیدی عمر بن عبد العزیز* نے فرمایا
خذوا من الرأي ما كان يوافق من كان قبلكم فإنهم كانوا أعلم منكم
وہ رائے اختیار کرو جو تم سے پہلے لوگوں کے موافق ہو کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم والے تھے
❗حلیہ الاولیاء ❗
یہ دوسری وجہ ہے ہم عصر کی رائے قبول نہ کرنے کی کہ ان سے پہلے والے بڑے عالم تھے
اور آپ کا ہم عصر عقل میں آپ کے برابر ہے تو اس کی رائے میں جتنی گہرائی و پختگی ہوگی وہ آپ کی رائے میں بھی ممکن ہے تو اس سے متاثر کیوں ہونا ؟
جبکہ ساتھ حکم یہ بھی ہوا کہ زندہ لوگوں کی پیروی نہ کرو
مطرف بن الشخیر فرماتے ہیں
عقول كلّ قوم على قدر زمانهم
ہر قوم کی عقل اس کے زمانے کی مقدار کے برابر ہوتی ہے
❗بھجۃ المجالس ❗
خالص زمانے کے لوگوں کی عقلیں خالص اور فتنے کے زمانے کے لوگوں کی عقلیں فتنہ پرور ہوتی ہیں یا کم از کم فتنوں سے متاثر ہوتی ہیں
یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہمارے دور میں پہلے والے دور کے علماء جیسے عالم کیوں نہیں ہوتے
کیونکہ وہ دور خالص و زمانہ نبوی کے قریب تھا اور ہمارا دور فتنوں سے بھرا ہوا اور زمانہ نبوی سے دور ہے
اسی وجہ سے علماء کے علوم و عقول میں فرق ہے
یہی بحث کا لب لباب ہے کہ اپنے زمانے کے علماء و فضلاء پر آنکھیں بند نہ کریں جو چلے گئے ان علماء کی پیروی کریں
امام اھلِ سنت احمد بن حنبل فرماتے ہیں
إيّاك أنْ تتكلم في مسألة ليس لك فيها إمام
ایسے مسئلہ میں بات کرنے سے بچو جس میں تمہارا کوئی امام نہ ہو
❗مناقب الامام احمد لابن الجوزی ❗
یعنی جو دینی بات کسی امام سے ماخوذ نہ ہو وہ نہ کرو
کوئی رہنماء ہونا ضروری ہے
اپنا وجدان بیان نہ کیا جائے اور ایسی فاسد تشریحات نہ کی جائیں جو تمہیں خود کی طرف منسوب کرنا پڑیں یعنی کسی کے پوچھنے پر یہ کہنا پڑے نہ کہیں پڑھا ہے نہ کسی عالم نے کہا ہے بس میری تحقیق ہے
یہیں سے فتنے کا آغاز ہوتا ہے جب بندہ یہ کہے یہ میری تحقیق ہے اور اس کا سرا کسی امام سے نہ ملتا ہو
الغرض ہم زمانہ لوگوں کی عقلیں مساوی ہوتی ہیں اور پہلوں کی عقلیں خالص اور پختہ ہوتی تھیں اور زندہ عالم گمراہ ہو سکتا ہے لہذا ان کی پیروی کریں جو مامون و محفوظ ہو چکے ان کی پیروی نہ کریں جو بھٹک سکتے ہیں گمراہ ہو سکتے ہیں
اسی وجہ سے زندہ علماء کو امامت کا درجہ نہ دیا جائے
بڑے بڑے القاب نہ دیئے جائیں
کہیں کل یہ درجہَ امامت و بڑے القاب گلے کی ہڈی نہ بن جائیں
❗ ہمارے مذکورہ مضمون میں سات کتابوں کے حوالہ جات ہیں بخاری شریف”جامع بیان العلم”معجم کبیر” حلیہ الاولیاء”بھجۃ المجالس”مناقب احمد”سیر اعلام النبلاء ❗
✍️ #سیدمہتاب_عالم
