الحب_و_العشق 9
علامہ کمال الدین دمیری نے حیات الحیوان میں لکھا
الو ایک آنکھ بند کر کے اور دوسری آنکھ کھول کر سوتا ھے
اور ان آنکھوں کے بہت سے کمال ہیں
الو کی موت کے بعد دونوں آنکھوں میں سے کونسی کھلی آنکھ کونسی بند انکھ تھی اگر یہ پہچان نہ ہو رہی ہو تو دونوں آنکھوں کو پانی میں ڈال دیں
جو انکھ تیر جائے وہ کھلی اور جو نیچے رہ جائے وہ بند ہوگی
کسی کو نیند نہ آتی ہو اگر بند آنکھ اسکی چارپائی کے نیچے دبا دی جائے تو وہ خوب سوئے گا
اس کو اچھی نیند آئے گی
اور جس کو بہت نیند آتی ہو اس کی چارپائی کے نیچے کھلی آنکھ دفنا دیں تو وہ جاگتا ہی رہے گا
آپ بتائیں آپ کو کونسی آنکھ کی حاجت ہے؟
یہ بات مسلم ہے کہ جادو میں الو کا خاص استعمال ہوتا ہے
الو کے اعضاء جادو میں مخلتف طرح استعمال ہوتے ہیں
علماء کرام نے فرمایا
رات کے پچھلے پہر چار قسم کے افراد جاگتے ہیں
الو , چور ,عاشق , طالبِ عالم
الو تو شکار کے لیئے نکلتا ہے
اسے رات کے اندھے میں صاف نظر آتا ہے اور اس اڑان میں اس کے پروں کی آواز بالکل سنائی نہیں دیتی ان دو وجہوں سے وہ رات کو جاگتا ہے
چور رات میں چوری کے لیئے جاگتا ہے
عاشق گریہ و زاری میں رات جاگتا ہے , آہ و بکا سے آتشِ شوق بجھاتا ہے
طالبِ عالم بلندیوں کی طلب میں رات جاگتا کے
من طلب العلاء سهر الليالي
بلندیوں کا طالب راتوں کو جاگتا ہے
اِن سب میں عاشق کا جاگنا سب سے بہتر ہے کہ الو و چور کی طرح کسی کا نقصان نہیں کرتا اور طالب علم کی طرح بلندی نہیں چاہتا بلکہ محبوب چاہتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
