الحب_و_العشق 10
امام ابن الجوزی نے عروہ بن حزام کا تعارف یوں کروایا
اسلامی شاعر مَحبت کرنے والوں میں سے ایک اور مقتولِ محبت عروہ بن حزام
سیدی عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ نے عروہ اور عفراء کے عشق کے معلق سنا تو فرمایا
لو أدركت عروة وعفراء لجمعت بينهما
اگر میں عروہ اور عفراء کو پاتا تو ان کی شادی کروا دیتا
❗المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم ❗
سیدی عبد اللہ بن عباس فرماتے تھے
هذا قتيلُ الحبِّ
یہ مقتولِ محبت ہے
سیدی امیر معاویہ ان کے بارے فرماتے تھے
لو علمتُ بهذَين الشَّريفَين لجمعتُ بينهما
اگر میں ان دو شریفوں کے بارے جانتا تو ان کی شادی کروا دیتا
حضور سید عالم رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس کو فرمایا
يا ابن عباس ألا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مغيثًا
اے ابن عباس کیا تجھے مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں ہوتا؟
❗بخاری ❗
مغیث بریرہ کے پیچھے پیچھے گلیوں میں پھرتے اور بریرہ کو راضی کرتے کہ مان جاؤ میرے نکاح میں رہ لو
وہ کہتی ہرگز نہیں میں نے جدائی کا فیصلہ کر لیا ہے
ابن حجر عسقلانی اس پر شرح میں فرماتے ہیں
إن فرط الحب يُذهِب الحياء
شدتِ محبت حیاء ختم کر دیتی ہے
❗فتح الباری ❗
مگر اھلِ ایمان یہ بھی یاد رکھیں کہ ایمان کے بعد سب سے قیمتی شے عزت ہوتی ہے
بہر حال یہ اقوال ان ڈیڑھ ہشیاروں کے لیئے ہیں جو نفرت کا وجود تو تسلیم کرتے ہیں محبت کے وجود کے منکر بن جاتے ہیں
جیسے نفرت دنیا میں موجود ایک جذبہ ہے ویسے ہی محبت بھی ناقابلِ انکار جذبہ ہے
سیدی عمر فاروق اعظم جیسی شریعت پر سختی سے پابند ہستی بھی محبت کرنے والوں کو ملانے کی تمنا کا اظہار کرتی ہے
محبت کرنے والوں کو امن و امان عزت و عافیت سے ملانا بہت بڑی نیکی کا کام ہے
سخت دل بے دید نہیں بلکہ نرم دل فطرت شناس انسان بنیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
