الحب_و_العشق 8
••• اندر بھی تو باہر بھی تو •••
ابن القیم نے کہا
مُحِب تین طرح کے ہوتے ہیں
اول
وہ جو محبوب سے کچھ چاہے
دوم
وہ جو محبوب کو چاہے
سوم
وہ جو محبوب کی مراد چاہے اور ساتھ میں محبوب کو بھی چاہے
اور یہ تیسری قسم سب سے افضل و اعلیٰ ہے کیونکہ یہ صرف اپنی خواہش نہیں منواتا بلکہ اولاً محبوب کی تمنا پوری کرتا ہے پھر وصالِ یار کی تمنا کرتا ہے
یعنی اپنی تمنا سے پہلے محبوب کی تمنا رکھتا ہے اور جس سے محبوب کو ناگواری ہوتی ہو اس سے کوسوں دور رہتا ہے
اور یہ اصول محبت و عشقِ حقیقی و مجازی دونوں پہ لاگو ہوتا ہے
پہلے اپنی نفی پھر محبوب کی خوشی ہوتی ہے
ایک شخص نے محبوب کا دروازہ بجایا اندر سے پوچھا گیا کون؟
مُحب نے کہا
انا یعنی میں
محبوب نے کہا کہ یہ میں کون ہے؟
کرتے دعوی محبت ہو مگر اپنی انا و خودی سے نہیں نکل سکے ؟
جاؤ ملاقات نہیں ہوسکتی
محبوب چلا گیا
سال بھر جنگلوں , صحراؤں کی خاک چھانی پھر آیا دروازہ بجایا محبوب نے پوچھا کون؟
محب نے باہر سے کہا
اندر بھی تو باہر بھی تو
یہ سن کر محبوب نے یہ کہ کر دروازہ کھول دیا کہ اب تم ملاقات کے قابل ہوگئے ہو
محبوب سے کچھ چاہو یا محبوب چاہو یا محبوب کی مراد چاہو خود کی عزت کا لحاظ , انا کا جملہ منہ سے نکالنا توہینِ محبت ہے
حسان الہند کہتے ہیں
رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
