آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 47
ہم اھلِ سنت ایک شعر پڑھتے ہیں
لی خمسۃ اطفی بھا حرّ الوباء الحاطمۃ
المصطفٰی المرتضٰی و وابناھما و الفاطمۃ
میرے پانچ سردار ہیں جن کے صدقے سے میں تباہ کن بیماری کی تپش بجھاتا ہوں
جناب محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
مولا مرتضیٰ کرم الله وجہہ الکریم
ان کے دونوں بیٹے حسن و حسین رضی الله عنھما
اور سیدہ خاتونِ جنت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا
اِن میں سے ہر ایک کی یاد میں رونا عبادت ہے
اِن کے صدقے دعائیں مانگنا سنتِ اھلِ سنت ہے
تجدیدِ غمِ حسین جائز نہیں مگر تجدیدِ ذکرِ حسین بلا شبہ جائز ہے
اور ذکرِ حسین پر جو آنسو نکل آئیں وہ آنسو *تباہ کن بیماری* کی تپش بجھا دیتے ہیں
امام عالی مقام شہیدِ کربلاء حسین ابن علی فرماتے ہیں
مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً أَثْوَاهُ اللَّهُ عز وجل الْجَنَّةَ
جن آنکھوں سے ہمارے لیئے آنسو بہے یا جن آنکھوں سے ہمارے لیئے قطرات نکلے الله رب العزت اسے جنت میں جگہ دے گا
❗ فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل ج ٢ ص ٦٧٥ ❗
دیکھیں کتنے صاف الفاظ میں امام عالی مقام اھلِ بیت کی یاد میں رونے والے مسلمان کو جنت کی خوشخبری سنا رہے ہیں
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی الله عنھا کو جب شہادتِ امام حسین کی خبر ملی تو امام ذھبی نقل کرتے ہیں
فَوَجَمَتْ لِذَلِكَ وَغُشِيَ عَلَيْهَا وَحَزِنَتْ عَلَيْهِ كَثِيْرًا لَمْ تَلْبَثْ بَعْدَهُ إِلاَّ يَسِيْرًا وَانْتَقَلَتْ إِلَى اللهِ
سیدہ ام سلمہ کو سکتہ ہوگیا ان پر غشی طاری ہوگئی
حسین پر وہ بہت زیادہ غمگین ہوگئیں
حسین کی شہادت کے بعد کچھ عرصہ ہی زندہ رہیں پھر الله رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں
❗ سیر اعلام النبلاء ج ٢ ص ٢٠٢ ❗
جب امام حسن بصری کو امام عالی مقام شہیدِ کربلاء کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا
انساب الاشراف میں ہے
بَكَى حَتَّى اِخْتَلَجَ جَنْبَاهُ ثُمَّ قَالَ وآذُلَّ أُمَّةٍ قَتَلَ اِبْنُ دَعِيِّهَا اِبْنَ نَبِيِّهَا
امام حسن بصری اتنا روئے کہ کانپنے لگے پھر فرمایا
امت کی ذلت مجہول النسب شخص نے اپنے نبی کے بیٹے کو شہید کر دیا
❗ انساب الاشراف ج ٣ ص ٤٢٥ ❗
امام زین العابدین کو کربلاء کے بعد کبھی مسکراتے نہیں دیکھا گیا
راس الجالوت یہودی کہتا ہے
وَالله إِن بيني وَبَين دَاوُد سبعين أَبَا وَإِن الْيَهُود لتلقاني فتعظمني وَأَنْتُم لَيْسَ بَيْنكُم وَبَين نَبِيكُم إِلَّا أبٌ وَاحِد قتلتم وَلَده
خدا کی قسم سیدنا داؤد علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام اور میرے درمیان چالیس پیڑھیاں ہیں
یہودی جب بھی مجھے ملتے ہیں میری نہایت تعظیم کرتے ہیں
لیکن تمہارے اور تمہارے نبی کے درمیان صرف ایک پیڑھی ہے تم نے ان کے بیٹے کو قتل کر دیا
❗ الوافي بالوفيات ج ١٢ ص ٢٦٥ ❗
امت کے کچھ افراد اتنے ظالم ہیں کہ ان کے اجداد نے اھلِ بیت کو شہید کیا اور اولاد علمی پردے میں یادِ شہیدانِ کربلاء پر پابندی لگاتی ہے
ان کے اجداد نے اھلِ بیت کے افراد ذبح کیئے اور اولاد فضائل ذبح کرتی ہے
باقاعدہ محفل جما کے بطریقِ روافض ذکرِ غمِ حسین جائز نہیں ہے مگر ذکرِ حسین کہ فضائل و مناقب ہوں اور یزیدیوں کا ظم و ستم بیان کرنا کہ آنسو نکل آئیں بالکل جائز ہے
اسی بارے شہیدِ کربلاء نے فرمایا تھا کہ جو ہمارے لیئے رویا الله رب العزت اسے جنت دے گا
اصل بات تو یہ ہے کہ جن کے اجداد نے مارا وہ کہاں چاہیں کہ ظلم و ستم کو ذکر ہو اور جن کے اجداد کو شہید کیا گیا وہ ہر سال اُس دن کو یاد کر کے روتے ہیں
آپ کس کے اجداد کے ساتھ ہیں ؟
چند سالوں سے ایک وباء پھیل گئی ہے کہ کربلاء کے واقعات کو مشکوک بنایا جاتا ہے
کربلاء کے واقعات پر بخاری و مسلم جیسی اسناد طلب کی جاتی ہیں
کربلاء کے ظلم و ستم کو کہانیوں سے تعبیر کیا جاتا ہے
*یہ خبیث سوچ کہاں سے آئی کیوں آئی ؟
یہ اپنے اجداد کو بچانے سے مذموم کوشش ہے
اور اس کی لپیٹ میں عوام آتی ہے
یہ تحقیق کے نام پر لمبی لمبی تحاریر اور بڑی بڑی کتابوں کے نام لکھتے ہیں اور اھلِ سنت کو گمراہ کرتے ہیں
ہر ایسے یزیدی سے بچیں جو کربلاء کے واقعات کو یا فضائلِ اھلِ بیت کو موضوع و منگھڑت قرار دے
ان کی زبان پر بس یہی بڑھا ہوا
یہ موضوع ہے
یہ منگھڑت ہے
ان کی یہی نشانی ہے
تو جس بھی سفید بال کالے دل کالے بال کالے دل کو اھلِ بیت کے متعلق منگھڑت موضوع کہتے سنیں اس پر لعنت ڈال کے آگے بڑھ جائیں
یہ یزیدی کبھی آپ کو صحابہ کرام کے متعلق موضوع و منگھڑت بیان کرتے نظر نہیں آئیں گے حالانکہ کثیر تعداد میں روایات صحابہ کرام کے متعلق موضوع و منگھڑت ہیں
اھلِ بیت کے متعلق ان کا متمحق خناس بیدار ہو جاتا ہے
لہذا ایسے خبثاء سے بچیں ورنہ قیامت میں آپ کو یہ اپنے اجداد یزید و شمر کی صف میں کھڑا کر دینے میں کامیاب ہو جائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
