آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 48
امام ابن اثیر فرماتے ہیں
كَانَتْ ضَرَباتُ عَلِيٍّ مُبْتَكَرَات لَا عُونًامولا علی کرم الله وجہہ الکریم کی مار ایسی کاٹ دار ہوتی تھی کہ بس ایک ہی بار کی ضرب کافی ہوتی تھی
مبتکرات پہلی ضرب
عون دوسری ضرب
❗ النهاية في غريب الحديث والأثر ج ١ ص ١٣٩ ❗
یعنی ایک ہی ضرب ایسی کاٹ دار ہوتی دوبارہ تلوار چلانے کی حاجت نہیں ہوتی تھی
علامہ مرتضی الزَبیدی فرماتے ہیں
أَنّ عَلِيًّا كَانَ إِذا اعتَلَى قَدَّ وإِذا اعْتَرَضَ قَطَّ
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم جب لمبائی میں تلوار چلاتے تو مکمل کاٹ دیتے تھے چوڑائی میں چلاتے تو مکمل کاٹ دیتے تھے
اعتلال لمبائی میں کاٹنا
اعتراض چوڑائی میں کاٹنا
❗ تاج العروس ج ٩ ص ١٢ ❗
امام احمد رضا خان عرض کرتے ہیں
حَیْدَرَا اَژدَر دَرا ضِرْغام ہائل مَنْظَرا
شہرِ عِرفاں را دَرا روشن دُرا اِمداد کُن
وہ اژدھے کو چیرنے والے وہ پر وقار ہیبت طاری کرنے والے شیر
وہ علم و جہاد کے علمبردار وہ علی کرار ہیں بار بار حملہ کرنے والے ہیں
بقول نصیر
مرحب دو نیم ہے سرِ خیبر پڑا ہوا
اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے
جو علی کی مار سے مرا ہو یا علی کے بغض میں مرا ہو *نحس و نجس* ہے
اور جو علی کی محبت میں مرا ہو وہ جنتی ہے
علی و اولادِ علی سے بغض یزید و آلِ یزید کو اسی وجہ سے ہے کہ مولا علی نے اِن کے بڑوں کو مبتکرات مار دی کبھی تو کبھی اعتلال ماری دی تو کبھی اعتراض مار دی
جب امام حسین کا سر مبارک یزید کے سامنے رکھا گیا تو وہ یہ کفریہ اشعار گنگنانے لگا
لَيْتَ أَشْيَاخِي بِبَدْرٍ شَهِدُوا
جَزَعَ الْخَزْرَجِ مِنْ وَقْعِ الْأَسَلْ
کاش میرے وہ اجداد جو بدر میں مارے گئے تھے خزرج کی چیخ و پکار سنتے جو نیزوں سے نکلتی ہے
فَأَهَلُّوا وَاسْتَهَلُّوا فَرَحًا ثُمَّ
قَالُوا لِي هَنِيًّا لَا تَسَلْ
وہ خوشی سے مجھے مبارک باد دیتے اور مجھے حوصلہ دیتے
قَدْ قَتَلْنَا الضَّعْفَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ
وَعَدَلْنَا مَيْلَ بَدْرٍ فَاعْتَدَلَ
ہم نے اُن (بنی ہاشم) کے معززین میں سے دوگنے قتل کیئے اور جنگِ بدر کا بدلہ لیکر حساب برابر کر دیا
امام مجاہد فرماتے ہیں
نَافَقَ فِيهَا وَاللَّهِ
خدا کی قسم یزید نے ان اشعار میں منافقت سے کام لیا ہے
❗ البدايه والنهايه ج ١١ ص ٥٥٨ ❗
کتنے صاف الفاظ میں یزید مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہاتھوں سے جنگِ بدر میں مارے گئے کفار کا بدلہ لینے کا ذکر کر کے خوشی کا اظہار کر رہا ہے
جنگِ بدر میں سب سے زیادہ کفار مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے مارے تھے تو اس وجہ سے لوگوں کے دلوں میں علی و اولادِ علی کا کینہ بھرا ہوا تھا
اور پھر یہ کینہ وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتا رہا ہے اور ظاہر ہوتا ہے
امام ابن الجوزی فرماتے ہیں
ابن زیاد کا امام حسین کو شہید کرنا عجیب نہیں ہے بلکہ یزید کا امام حسین کے دندان مبارک میں چھڑی گھمانا اور توہین کرنا ہے اور آلِ رسول کو قیدی بنا کے اونٹوں پر سوار کے گھمانا زیادہ عجیب ہے
پھر فرمایا
وَلَو لم يكن فِي قلبه أحقاد جَاهِلِيَّة وأضغان بدرية لاحترم الرَّأْس لما وصل إِلَيْهِ وكفنه وَدَفنه وَأحسن إِلَى آل رَسُول الله ﷺ
اگر یزید کے دل میں جاہلیت والا کینہ اور جنگِ بدر والا بغض نہ ہوتا تو جیسے ہی امام حسین کا سر مبارک اس کے پاس پہنچتا وہ اس کا احترام کرتا کفن دفن کا انتظام کرتا اور آلِ رسول سے بھلائی کرتا
❗ الصواعق المحرقة ج ٢ ص ٦٣١ ❗
عربوں کا تعصب اور قوم پرستی مشہور ہے اور یزید و آلِ یزید میں اسلام لانے کے باوجود یہ باقی تھی
انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا پھر کئی سال منبروں پر بنو ہاشم کو گالیاں دیتے رہے
اب یزید کی اولاد تتے توے پر بیٹھ جائے گی کہ یہ کیا کہ دیا
بنو امیہ کا منبروں پر مولا علی کو گالیاں دینا جھوٹی روایت ہے وغیرہ وغیرہ
تو جنابِ والا
ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے ایک بار پھر اوپر کا مضمون پڑھیں
اِن کا بغض ختم نہیں ہوا تھا تو یہ قتل سے باز نہیں آئے گالیوں سے باز آتے ؟
پھر اعتراض کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علماء و محدثین یہ چپ چاپ سنتے رہے
تو جواباً عرض ہے کہ جیسے علماء و محدثین یک بعد دیگرے اھلِ بیت کی شہادتیں دیکھتے رہے ویسے یہ سنتے بھی رہے
کربلاء برپا ہوا تو کیا دنیا سے علماء کا وجود ختم ہو گیا تھا ؟
امام زید کو شہید کیا گیا
پھر امام یحیی کو شہید کر کے گیارہ سال صولی پر لٹکائے رکھا
علماء غائب ہو گئے تھے ؟
پھر ان کے بیٹے پھر ان کے پوتے پھر ان کے بیٹے کو شہید کیا
تو اھلِ بیت کی حمایت میں کھڑا ہونے والا کون تھا ؟
پھر بنو امیہ کی جگہ بنو عباس آئے انہوں نے بھی اھلِ بیت پر ظلم کرنے میں کمی نہیں کی
پھر یاد رکھیں
جب یہ کہا جائے کہ بنو امیہ ظالم تھے تو ان سے مراد سیدنا عثمان غنی و سیدی امیر معاویہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز نہیں ہوتے
یہ پاک ہستیاں گالی بلوچ سے پاک و بیزار ہیں
باقی بنو امیہ شر و شریر ہیں
آپ کیوں منہ اٹھا کے ان کی حمایت کرتے ہیں ؟
التاريخ المعتبر میں ہے
ان خلفاء بني أمية كانوا يسبونه من سنة إحدى وأربعين وهي السنة التي خَلع الحسن فيها نفسه من الخلافة إلى أول سنة تسع وتسعين آخر أيام سليمان بن عبد الملك فلما ولي عمر أبطل ذلك وكتب إلى نوابه بإبطاله، ولما خطب يوم الجمعة أبطل السبَّ في آخر الخطبة بقراءة قوله تعالى: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
بنو امیہ کے خلفاء مولا علی کو گالیاں دیتے تھے جس سال امام حسن نے خلافت چھوڑی یعنی 42 ھجری سے نناوے ھجری تک جو کہ سلیمان بن عبد الملک کا دور تھا تو جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے
جب عمر خلیفہ بنے تو انہوں نے مولا علی کو گالیوں پر پابندی لگا دی
خلافت کے تمام شہروں میں اس کی ممانعت کاحکم نامہ بھیجا
اور جب خود خطبہ دیا تو گالی روک کر یہ آیت کریمہ پڑھی
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
بے شک الله رب العزت عدل و احسان کا حکم دیتا ہے قریبی رشتہ سے بھلائی کا حکم دیتا ہے فحش و برے کاموں اور بدکاری سے روکتا ہے
وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو
❗ التاريخ المعتبر في أنباء من غبر ج ١ ص ٣١٩ ❗
یہ جو سنیت کے لباس میں ناصبی ہیں ابن تیمیہ کی ناصبیانہ تحقیق پیش کرتے ہیں کہ بنو امیہ میں نے گالیاں نہیں دلوائی
یہ کس کا دفاع کر رہے ہیں ؟
یزید کا ؟
مروان کا ؟
ولید کا ؟
اھلِ بیت کی مظلومیت کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں ؟
اصل بات وہی ہے کہ
رکھتے ہیں وہ ہی بغض حیدر کرار سے
مارے گئے ہیں جن کے بڑے ذوالفقار سے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
