تصوف_و_صوفیاء 85
سیدی معاذ بن جبل فرماتے ہیں
إِن المؤمن لا يطمئن قلبه ولا تسكن روعته حَتَّى يخلف جسر جهنم وراءه
مؤمن کا دل مطمئن نہیں ہوتا اس کا نفس سکون نہیں پاتا جب تک وہ اپنے پیچھے پل صراط نہ چھوڑ دے
❗ رسالہ قشیریہ ص ٢٥٣ ❗
یعنی مومن ہر وقت گُھٹی گُھٹی کیفیت میں رہتا ہے جب پل صراط پار کرے گا تو سکون پائے گا
یہ ایمان کی نشانی ہے
• مؤمن غمگین رہتا ہے کیونکہ دنیا میں ہر وقت آزمائش میں رہتا ہے اور جس پر آزمائش ہو وہ پرسکون کیسے رہ سکتا ہے ؟
• مؤمن کا حقیقی گھر جنت ہے تو اپنے وطنِ اصلی سے دوری کی وجہ سے خود کو دنیا میں پردیسی محسوس کرتا ہے اسی وجہ سے گھبرایا رہتا ہے
• مؤمن کے سامنے ایمان پہ موت کا امتحان , قبر و حشر پھر پل صراط سے گزرنے کی آزمائش جیسی لازمی اشیاء ہیں تو اس وجہ سے پریشان رہتا ہے
• مؤمن ماحول و معاشرے کی وجہ سے گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے اور گناہوں کا بوجھ اس کی روح پر گراں گزرتا ہے تو اس وجہ سے وہ روح اکتائی اکتائی سی رہتی ہے
• *مؤمن کے دل پر دنیا سے محبت اور گناہوں میں مبتلاء ہونے کی وجہ سے پردہ پڑ جاتا ہے* جس کی وجہ سے آسمان سے نازل رحمات و برکات سے حصہ نہیں پاتا یوں قلب و روحِ مومن روحانی غذاء سے محروم ہوتی ہے اور رحمت و برکت کی بھوکی رہ جاتی ہے اور بھوکی روح کو قرار کہاں ؟
*اے گروہِ مومناں
تنگ دل نہ ہوں , پریشان نہ ہوں , گھبرائیں نہیں , مایوس نہ ہوں
یہ دنیا چند دن کی ہے اور پھر جو مشکلات و مصائب کا دور شروع ہوگا وہ بیان سے باہر ہے
اُن مشکلات سے پار ہو گئے تو ابدی سکون و قرار ملے گا
آپ کا رب الله ہے
پھر پریشانی کیوں ؟
مایوسی کیوں ؟
وہ قادر و مقتدر ہے
اُس سے تعلق مضبوط رکھیں دنیا کے غم ہی مرہم بن جائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
