عاشق کے آنسو اور مقتول کا خون برابر ہیں

الحب_و_العشق 27

ديوان الصبابة میں ابن ابی حجلة نے امام نووی کا فرمان نقل کیا
المیت عشقا من الشھداء
عشق میں مرنے والا شہید ہے

امام ابن اثیر کا فرمان نقل کیا
دمع العاشق و دم القتیل متساویان فی التشبیه والتمثيل الا أن بينهنا بونا لانهما يختلفان لونا

عاشق کا آنسو اور مقتول کا خون مشابہت و مثال میں برابر ہیں صرف ان میں رنگ کا فرق ہوتا ہے

حکماء نے اس کی خاص وجہ بیان کی کہ عاشق کے آنسو بھی اصل میں وہ خون ہوتا ہے جو دل کڑھنے سے جلتا ہے اور بخارات بن کر دل سے اٹھتا ہے
اور جب اسے انسانی جسم سے نکلنے کی راہ نہیں ملتی تو آنکھوں کے ذریعہ پانی کی طرح شفاف ہو کر نکلتا ہے
° اگر صاف و شفاف نہ ہو تو کراہیت کی وجہ سے آنسوؤں کی قیمت گر جائے °
الغرض آنکھوں سے بہنے والے آنسو حقیقت میں عاشق کا جلا ہوا خون ہوتا ہے
اسی لیئے عاشق کے آنسو اور مقتول کا خون برابر ہیں
بقول غالب
رگوں میں دوڑتے پِھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ نہ ٹپکا وہ لہو کیا ہے
ہم اسے خون ہی نہیں مانتے ہو رگوں میں ہے اصل خون تو وہ ہے جو آنکھوں سے انسو بن کے بہتا ہے
اسی وجہ سے عاشق کے آنسو شہید کے خون جیسے ہیں بلکہ افضل ہیں کیونکہ وہ اپنی اصلی حالت میں باہر آیا اور یہ جل کر اور جلا کر تڑپا پر باہر آیا ہے
حدیث مبارکہ میں ہے
من ‌عَشق ‌فعَفّ فكتم فمات فهو شهيدٌ
جسے عشق ہوا تو اس نے پاکدامنی اختیار کی پھر اس عشق کو چھپایا پھر اس عشق میں مر گیا تو وہ شہید ہے

°°° عشق از خود ہوتا ہے زبردستی آگے بڑھ کر کھیل کود ہے پھر پاکدامنی اختیار کی اس میں نہ بد نگاہی کی نہ فحش تصورات میں مشغول رہا اور اس عشق کو دنیا حتی کہ محبوب سے بھی چھپایا تو بلاشبہ اس انسان پر دنیا تنگ ہو جاتی ہے وہ گھل گھل کے مر جاتا ہے اور یہی وجہ ہے اس کی موت شہادت ہے °°°
اسی کے آنسو شہید کے خون کے برابر ہیں

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top