اس کی بارگاہ میں خوف و محبت دونوں ہوں

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 125

حسن بن عرفہ فرماتے ہیں میں نے یزید بن ھارون کو واسط میں دیکھا تھا
ان کی دونوں آنکھیں بہت خوبصورت تھیں
پھر میں نے کچھ وقت بعد دیکھا تو ان کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوچکی تھی
کچھ عرصے بعد دیکھا تو دوسری آنکھ کی بینائی بھی ختم ہو چکی تھی
میں نے پوچھا آپ کی خوبصورت آنکھوں کا کیا ہوا ؟
فرمانے لگے
ذهب بهما بكاء الأسحار
آنکھوں کو سحری کے وقت رونا لے گیا
❗صفة الصفوة لابن الجوزى❗
یعنی سحری کے اوقات میں کثرت سے رونے کی وجہ سے پہلے میری ایک آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی پھر دوسری آنکھ کی بینائی ختم ہوگئی
اُس کی یاد میں رونا خوف سے بھی ہوتا ہے اور شوق سے بھی ہوتا ہے
دونوں میں اعتدال ضروری ہے
وہاں صرف خوف رکھنا کہ مایوسی چھا جائے کفر ہے
اور محض شوق و محبت رکھنا کہ خوف نہ رکھا جائے یہ بھی حرام ہے
علم سے خالی صوفی الله رب العزت کی محبت کی باتیں کرتے ہیں اور اس کے غضب سے ڈراتے نہیں
اسے پسند ہے اس کی محبت میں رویا جائے اور اس کے خوف سے رویا جائے
الله رب العزت کی خفیہ تدبیر سے غافل ہونا کبیرہ گناہ ہے
جسے اپنے ایمان کے چِھن جانے کا خوف نہ ہو وہ کسی دن ایمان گنوا بیٹھے گا
اس کی بارگاہ میں ہر بندہ خائف رہتا ہے حتی کہ محبت کی بساط پر قربتوں کے محلات میں رہنے والا بھی خائف رہتا ہے کہ کہیں یہ نعمت چھین نہ لی جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم 127

Scroll to Top