بادشاہوں کے تاج ہمارے شہنشاہ کے قدموں میں

تاریخِ_اسلامی 92

٥٤٢ ھجری میں تین ہزار صلیبی فوجی مسلمانوں سے جنگ کرنے آئے
یہ وہ وقت تھا جب صلیبی جنگیں جاری تھیں
مگر یہ تین ہزار فوج سے پیچھے رہ گئے
جہاں یہ تھے وہاں کے مسلمانوں نے ان کو کھانا کھلایا تو یہ لوگ مسلمانوں کے حسنِ سلوک سے اتنے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا

اسلام تلوار سے بھی پھیلا ہے اور اخلاق سے بھی پھیلا ہے

اھلِ اسلام نے غدر و مکر و جبر سے اسلام نہیں پھیلایا
اسلام جب کمزور تھا تب بھی غیرت و حمیت کا نام تھا اور جب عروج پر آیا تب بھی شجاعت و دلیری کا نام تھا
سلطانِ عالیشان سلیمان قانونی نے نصف سے زیادہ عیسائی عوام کے حاکم شارل خامس کو شہنشاہ لقب رکھنے سے منع کر دیا کہ تم یہ لقب اختیار نہیں کرو گے
مزے کی بات ہے شارل خامس نے ہمارے شہنشاہ سلیمان قانونی کے حکم کو تسلیم کیا
سلطان قانونی کا مقصد تھا کہ دنیا میں شہنشاہ صرف ایک ہے اور وہ میں ہوں کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا
یہ دو مثالیں ہیں ایک میں رحمتِ مومنین کا اظہار ہے دوسری میں قوتِ مومن کا اظہار ہے
بدقسمتی سے اِس وقت مسلمان نہ رحمت رکھتے ہیں نہ قوت رکھتے ہیں
نہ اخلاق سے اسلام پھیلا پا رہے ہیں نہ تلوار سے پھیلا پا رہے ہیں
اسلام تلوار سے پھیلا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کافر کی گردن پر تلوار رکھ دی جاتی کہ اسلام قبول کرو بلکہ جہاد لاکھوں کے قبولِ اسلام کا سبب بنا ہے
بہر حال ہم آج کیا ہیں غور کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top