ولایت کی رگ بڑھائیں

تصوف_و_صوفیاء 79

سیدی محمد النبھان فرماتے ہیں

كُلُّ مَن يُحب الأولياء لا بد أن عنده عرقًا من الولاية ولا بد لهذا العرق أن يكبر
ہر بندہ کو اولیاء کرام سے محبت کرتا ہے لازمی طور پر اس میں ولایت کی کوئی رگ ہوتی ہے تو اسے چاہیئے اس رگ کو بڑا کرے

آدمی اسی کی طرف مائل ہوتا ہے جو شے وہ پسند کرتا ہے
جنس اپنی جیسی جنس کی طرف مائل ہوتی ہے تو جو ولی سے محبت کرتا ہے اس میں جنسِ ولایت موجود ہے
ولایت کی دو قسمیں ہیں
ولایتِ تکوینی
ولایتِ تشریعی
کلُ مؤمن ولی الله
ہر مومن الله کا ولی ہے

اللہ رب العزت فرماتا ہے
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ
الله ایمان والوں کا ولی ہے
دوسری جگہ ہے
وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
وہی نیکوں کو ولی ہے
یہ ولایتِ تشریعی ہے
اور رب العالمین جسے اپنا خاص قرب عطاء فرمائے جسے بلند مقامات عطاء فرمائے یہ ولایتِ تکوینی ہے
سید الطائفہ جنید بغدادی فرماتے ہیں

الولاية الصغرى هي التصديق بطريقتنا هذه
ہمارے طریقے کی تصدیق کرنا ہی ولایتِ صغری ہے
یعنی اولیاء کرام کو ماننا ولایتِ صغری ہے
یہی وہ رگ ہے جو سیدی النبھان نے فرمائی ہے
ما جاء الرسول کی تصدیق ایمان ہے اور مال جاء الولی کی تصدیق ولایت ہے
تکذیب ابلیسی انداز ہے اور تردید منافقانہ انداز ہے
اگر آپ کو اولیاء کرام سے محبت ہے تو مبارک ہو آپ میں ولایت کی رگ ہے اور آپ اس رگ کو بڑھا سکتے ہیں
یہی وجہ ہے تو منکرین میں سے کوئی ولی الله نہیں بن سکتا کیونکہ ان میں ولایت کی رگ سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top