حضور کی بارگاہ میں خط

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 143

°°° ابن تیمیہ کی گمراہی °°°

امام اجل تاج السبکی نے ابن تیمیہ کے بارے فرماتے ہیں
٧٥١ هجرى میں اس کی کتاب العقل و النقل دیکھی تو اس میں کچھ جگہوں پر میرا دل کھٹکا
مجھے خوف ہوا اس شخص کی بدعتیں پھیل جائیں گی جبکہ اس کے مقابل کوئی کھڑا نہیں ہو رہا تھا تو میں نے دس شوال ہفتہ کے دن حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بارگاہ میں ایک خط لکھا
جس میں عرض کیا اگر میں حق پر ہوں تو مجھے قوت دیں اور اگر میں ناحق ہوں تو مجھے ہدایت دیں
تو میں یہ خط شیخ نور الدین السخاوی کو دیا کہ وہ حج پر جا رہے تھے
ظہر کے بعد ایک شخص آیا اس نے ابن تیمیہ کے بارے خبر دی جس سے تقویب ملی کہ وہ گمراہ شخص ہے پھر ایک اور شخص آیا اس نے بھی وہی بتایا پھر ایک اور شخص آیا اس نے بھی وہی بتایا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ میرے خط کا جواب ہے
پھر میں نے وہ خط بھیج دیا
اس خط کہ عبارت کچھ یوں تھی

بسم الله الرحمن الرحيم إلى سيدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، يا رسول الله اني عُبيد ضعيف عاجز مسكين
بسم الله الرحمن الرحیم ہمارے آقا صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں
یا رسول الله میں ایک حقیر سا بندہ عاجز ق مسکین انسان ہوں
امام سبکی درجہ اجتہاد پر فائز تھے جبکہ ابن تیمیہ بد عقل اور امت میں بڑے فتنے کا سر تھا
جب علماء کرام نے ابن تیمیہ کی پکڑ کی تو اسے مناظرے کے لیئے تیار کیا
اس کے سامنے بطورِ مناظر شیخ صفی الدین ہندی تھے
شیخ صفی الدین ہندی کمال کے عالم تھے
ایسی پکڑ کرتے تھے کہ سامنے والا ہل نہیں پاتا تھا
اور اپنی تقریر میں ہر شے واضح کر دیتے تھے کہ کسی کو مزید وضاحت کی حاجت نہیں ہوتی تھی
جب شیخ نے تقریر فرمائی تو ابن تیمیہ اِدھر اُدھر کی ہانکنے لگا
جب ایک جگہ پھنس جاتا تو دوسری طرف نکلنے کی کوشش کرنے لگا
تب شیخ صفی الدین ہندی نے تاریخی جملہ فرمایا
مَا أَرَاك يَا ابْن تَيْمِية إِلَّا كالعصفور حَيْثُ أردْت أَن أقبضهُ من مَكَان فر إِلَى مَكَان آخر
اے ابن تیمیہ میں تجھے ایک چڑیا کی طرح دیکھ رہا ہوں جب بھی اسے ایک جگہ سے پکڑنا چاہوں وہ دوسری جگہ بھاگ جاتی ہے

❗ طبقات الشافعیۃ للسبکی ص ١٦٤ ❗
باطل کا روش یہی ہوتی ہے جب کہیں پھنستا ہے تو کسی اور طرف نکلنے کی کوشش کرتا ہے
اپنی غلطی کا اقرار نہیں کرتا کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ ایک غلطی کا اقرار اس کے باطل عقیدے کی بنیاد گرا دیتا ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں
ابن تیمیہ کا علم اس کی عقل سے زیادہ تھا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوگیا
ایک من علم سنبھالنے کے لئے دس من عقل چاہیے ہوتی ہے
امام ابن حجر ہیتمی فتاویٰ حدیثیہ میں ابن تیمیہ کی گمراہیوں کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں ایک ایسی بات کرتے ہیں کہ بندے کا دل دہل جاتا ہے
عامله الله بعدله
الله رب العزت ابن تیمیہ سے اپنے عدل والا معاملہ کرے

الله الله
جس سے عدل ہوا وہ ہلاک ہو جائے گا
اس کا فضل مانگیں عدل نہیں
امت کے بڑے بڑے علماء ابن تیمیہ کو گمراہ اور گمراہ گر فرماتے ہیں

ابن تیمیہ اور ابن حزم و ابن قیم سب ایک صف کے گمراہ ہیں
ان کے علم میں شک نہیں مگر عقیدے میں یہ مردود ہیں
نیچے امام سبکی کے مبارک ہاتھوں سے لکھا ہوا واقعہ ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top