تخلی تحلی تجلی

تصوف_و_صوفیاء 78

مؤمنِ کامل تین چیزوں سے گزرتا ہے
تخلی پھر تحلی پھر تجلی

اول تخلی ہے اس کا معنی خالی ہونا ہے

التخلِّي هو أن تخلع عن قلبك كل رداء لا يليق بالمحبّة
تخلی یہ ہے کہ تم اپنے دل سے ہر اُس چادر کو اتار دو جو محبت کے لائق نہیں ہوتی
خود سے کبر و حرص و طولِ امل و غفلت کی چادر اتار دیں
نفس کو ہر آلائش سے پاک کریں
صوفیاءِ کرام فرماتے ہیں
الطريق لا يُقطع ومعك شيء من نفسك
الله رب العالمین کی طرف سفر اس وقت تک طے نہیں ہوتا جب تک تمہارے ساتھ تمہارے نفس میں سے کچھ بھی ہو
یعنی ظاہر و باطن کو نفس کی خواہشات سے پاک کریں پھر اس کی طرف سفر کریں
پھر تحلی کی باری آتی ہے
اس کا معنی زیور پہننا ہے
التحلِّي هو أن تلبس بعد التجريد حُلل الصفات المحمودة
تحلی یہ ہے کہ تم نفس کی چادر اتار کر صفاتِ محمودہ کے حلے پہن لیں
یعنی صبر و تحمل و استقامت و عاجزی و شکر کے حلے پہن لیں
اور خود کو سنتوں ہے آئینہ دار بنائیں تاکہ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہونے کے قابل ہوں
پھر اس کے بعد تجلی کی باری آتی ہے
التجلِّي وهو النور الذي يُشرق بعد صفاء والكشف الذي يأتي بعد وفاء
تجلی وہ نور ہے جو صفائی کے بعد چمکا دے وہ کشف ہے جو وفاء کے بعد ظاہر ہو
یعنی جب بندہ تخلی کر کے صاف ہو جائے اور تحلی سے مزین ہو جائے تو پھر تجلی پڑتی ہے
تجلی میں کشف ہوتا ہے ماکان و مایکون کے علوم و اسرار کھلتے ہیں
شرابِ محبت کے پیالے پیش کیئے جاتے ہیں جن کو پینے سے سرور آتا ہے
کوئی نہ سہ سکے تو مجذوب ہو جاتا ہے
کبھی تجلی نور کی بارشوں سی ظاہر ہوتی ہے
کبھی تجلی برق بن کے گرتی ہے جو نہ سہ سکے وہ مجذوب ہو جاتا ہے
کسی کو سہنے کی ہمت دی جاتی ہے اور وہ ہر وقت انوار کی بارشوں میں رہتا ہے
بہر حال مؤمن کا مقام یہی ہے کہ انوار و تجلیات میں آباد رہا کرے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top