کامیاب_خواتین 22
°°° کیا دینی تعلیم مَردوں سے لینا جائز ہے °°°
ابن قتیبہ دینوری
نے تاویل مختلف الحدیث میں امام زھری کا فرمان نقل کیا
الحَدِيثُ ذَكَرٌ يُحِبُّهُ ذكور الرِّجَالُ وَيَكْرَهُهُ مُؤَنَّثُوهُمْ
علم حدیث ایک نر (یعنی مذکر) علم ہے اسے مرد پسند کرتے ہیں
اس علم کو مادہ (یعنی مؤنث) ہی ناپسند کرتی ہیں
کیونکہ علمِ حدیث مشقت و محنت سے بھرپور علم ہے خواتین کی ہمتیں جواب دے جاتی ہیں
اس فرمان کے صدیوں بعد امام ذھبی نے میزان الاعتدال میں فرمایا
وما علمتُ في النساء مَنْ اتـُّهِمتْ بوضع الحديث ولا مَنْ تَرَكوها لعلة في روايتها
میں خواتین میں سے کسی خاتون کو نہیں جانتا جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت لگی ہو یا محدثین نے کسی خاتون کو کسی علت کی بناء پر متروک قرار دیا ہو
یعنی بے شمار مردوں نے احادیث گھڑی موضوع روایات کو آگے پھیلایا مگر کسی عورت سے یہ کام آج تک سرزد نہیں ہوا
اور بے شمار مرد محدثین کو علماء نے حافظے یا عدمِ تقوی کی وجہ سے ضعیف راوی شمار کیا مگر کسی عورت کو اس بناء پر ضعیف نہیں قرار دیا گیا
الشاذ کالمعدوم
کیسی عظیم خوش نصیبی ہے اس امت کی خواتین کے لیئے
امام زھری کے دور میں خواتین علمِ حدیث کی طرف کم متوجہ تھیں اس لیئے انہوں نے وہ فرمان جاری کیا
جبکہ امام ذھبی کے زمانے تک خواتین نے علمِ حدیث میں ناقابل فراموش کارنامے سر انجام دیئے تو امام ذھبی نے اپنا نظریہ بیان فرما دیا
امیر المومنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) نے الدرر الکامنہ میں تقریبا 170 محدثات کا ذکر کیا
°°° جن میں 54 ان خواتین محدثات و عالمات کا ذکر کیا جن سے امام ابن حجر عسقلانی نے خود علوم سیکھے °°°
ابن فھد المکی (متوفی 885) نے فرمایا میں نے 130 خواتین معلمات و فقیہات سے علم حاصل کیا
° یعنی ان کی 130 خواتین استاذ تھیں °
امام سخاوی (متوفی 902) نے الضوء اللامع میں 85 خواتین محدثات و عالمات کا ذکر فرمایا ہے
امام جلال الدین سیوطی (متوفی 911) کے دور میں 44 فقہیات عالمات مصر میں موجود تھیں
امام ابن عساکر (متوفی 571) نے معجم النسوان لکھی ••• جس میں اپنی 80 خواتین معلمات کا ذکر کیا اور ان سے احادیث بیان کی •••
یعنی ان کی 80 خواتین استاذ تھیں
امام ذھبی نے التقریب میں 824 ان عالمات کا ذکر کیا جو حدیث اپنی سند سے بیان کرتی تھیں
یہ عروجِ اسلام کی باتیں ہیں
اب زوال یہ ہے کہ خواتین کا فقیہات و محدثات ہونا تو دور ان کو درست عربی عبارت پڑھنا نہیں آتی
یہاں سے وہ غبار زدہ ذہن بھی گرد صاف کریں کہ شرعی حدود و قیود میں رہ کر مرد سے خاتون کا اور خاتون سے مرد کا علمِ دین پڑھنا سلفاً خلفاً صدیوں سے رائج ہے
یہ صرف علماءِ ظاہر کا ذکر ہے
جبکہ علماء باطن یعنی صوفیاء کرام کی الگ تفصیل ہے کہ ان کے ہاں بھی مرد خواتین سے اور خواتین مردوں سے اکتسابِ فیض کرتی رہی ہیں
اور فی زمانہ خواتین میں عربیت و بلاغت و فقاہت کے فقدان کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جن خواتین سے سیکھتی ہیں وہ خود کمزور ہوتی ہیں اوپر سے ان کا عرصہِ درس نظامی پانچ سالہ اس میں بھی محدود کتب ان میں بھی اردو کی کثیر کتب شاملِ نصاب ہیں!
اس کمی کو دو طرح پورا کیا جا سکتا ہے
اول کہ خواتین مکمل پردے میں اور فتنہ کے نہ ہونے کے یقین کی صورت میں مرد اساتذہ سے پڑھیں تو ان شاءاللہ علوم و فنون میں پختگی آتی جائے گی
دوم کہ جو مرد علماء ہیں وہ اپنے گھر سے آغاز کریں
اپنی محرمات کو اس طریقے پر پڑھائیں جو مردوں کے لیے ہوتا ہے
اپنی بہن, بیٹی کو وہ نصاب پڑھائیں جو طلباء پڑھتے ہیں اس طرح مردوں کے علوم و فنون کی پختگی خواتین میں پیدا ہوتی جائے گی
نہ خواتین پردے میں پڑھیں نہ مرد اپنی محرمات کو پڑھائیں تو امت کی بیٹیوں میں وہ زمانہ نہیں آئے گا جس میں فقہیات و عالمات و محدثات کی کثرت تھی
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
