کامیاب_خواتین 21
امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ میں حج کرنے گیا وہاں ایک شخص کو سامان بیچتے دیکھا جو بات بات پہ قسم کھاتا تھا اور سامان کی بے جا تعریف کرتا تھا
میں نے سوچا اس جیسے سے خریداری بے برکتی کا سبب ہے
لہذا اسے چھوڑ کر کسی اور سے سامان خرید لیا
کچھ سالوں بعد پھر حج پر گیا سامان خریدنے گیا تو اس شخص کو پھر دیکھا
مگر اس بار وہ چپ چاپ کھڑا تھا نہ قسم کھا رہا تھا نہ سامان کی بے جا تعریف کر رہا تھا
میں نے اس سے پوچھا کیا تم وہی نہیں ہو جو بات بات پر قسم کھاتے تھے؟
اس نے کہا جی ہاں
میں نے کہا اب کیوں نہیں قسم کھاتے ہو؟
کہنے لگا پہلے جو میری بیوی تھی اگر میں شام میں کم کمائی لے کر جاتا وہ حقیر جانتی تھی اگر کمائی زیادہ لے کر جاتا تھا وہ اس کو کم سمجھتی تھی
تو اللہ ربّ العزت نے مجھ پر کرم نوازی فرمائی اس عورت کو موت دے دی
اس کے بعد میں نے دوسری عورت سے شادی کی تو جب میں صبح جو بازار آتا ہوں
وہ کہتی ہے
اے میرے شوہر؛
اللہ سے ڈرنا اور ہمیں صرف پاک کمائی ہی کھلانا
اگر آپ تھوڑی کمائی لائیں گے تو میں کثیر سمجھوں گی اگر آپ تھوڑا لائیں گے تو میں آپکی مدد چرخہ کاتنے سے کروں گی
بس بیویوں کے کم زیادہ کی لالچ کی وجہ سے یہ سب فرق ہے
اسلاف کی بیویاں ان کو کہا کرتی تھیں
ہمارے بارے اللہ سے ڈرنا ہم مال کی کمی پر صبر کر لیں گی مگر جہنم کی آگ پر صبر نہیں کر سکیں گی
بیوی کا صبر و شکر یا صبر و شکر کی کمی ہی مرد کو حلال کمانے یا حرام کمانے پر مجبور کرتا ہے
اللہ سے ڈریں بیوی کے طعنے ہرگز خاطر میں نہ لائیں حلال کمائیں
اور بیویاں ایسی بھی نہ لالچی بنیں کہ انکی موت پر شوہر شکرانے کے نوافل ادا کرنے لگیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
