آپ چور ہیں تسلیم کریں یا نہ کریں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 56

••• خود قابل بنیں یا کسی کو قبول کریں •••

امام قسطلانی جلیل القدر شخصیت ہیں یہ امام سیوطی کے ہم عصر ہیں

امام قسطلانی نے امام سیوطی کی کتاب الخصائص سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص اور کچھ اور مواد اپنی مشہور زمانہ مقبولِ عند العلماء کتاب المواہب اللدنیہ میں نقل کیا مگر سیوطی کا حوالہ نہ دیا

جس پر امام سیوطی امام قسطلانی سے ناراض ہوگئے

حالانکہ وہ خواص خود علامہ سیوطی نے امام ذہبی کی کتب سے نقل کیئے تھے
اس پر امام سیوطی نے ایک رسالہ بھی لکھا جس کا نام الفارق بین المصنف و السارق ہے

امام سیوطی کہتے تھے کہ امام ذہبی کی کتابیں میرے پاس ہیں قسطلانی نے وہ پڑھی نہیں تو انکو چاہئیے تھا کہ وہ کہتے سیوطی نے ذہبی سے نقل کیا ہے

اس بات کا علم جب امام قسطلانی کو ہوا تو وہ
علامہ سیوطی کو راضی کرنے قاہرہ سے علامہ سیوطی کے پاس روضہ گئے

ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا
سیوطی نے کہا
کون؟
تو قسطلانی نے جواب دیا
میں قسطلانی ہوں
ننگے پاؤں ننگے سر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ میری طرف سے آپ کا دل صاف ہو جائے
تو سیوطی نے کہا
تمھارے لیئے میرا دل صاف ہوگیا ہے مگر امام سیوطی نہ دروازہ نہیں کھولا اور نہ ملاقات کی

اس واقعے سے وہ چور عبرت پکڑیں جو سوشل میڈیا سے کسی کا مواد بغیر اس کی طرف منسوب کیئے شیئر کرتے ہیں
اگر آپ میں اتنی اخلاقی جراءت نہیں کہ محرر کا نام لکھ سکیں تو اس کے الفاظ کیوں شیئر کرتے ہیں

علم ہرگز چوری نہیں ہوتا مگر علم کی نسبت چوری کرنے والے بدترین چور ہوتے ہیں

یا تو خود اس قابل بنیں کہ ویسا لکھیں یا مصنف کے نام کے ساتھ شیئر کریں
بغیر نام کے تحریر پھیلانے سے آپ چور بن جاتے ہیں آپ تسلیم کریں یا نہ کریں
یہاں وہ بد اخلاق و بد فھم ہمیں درس نہ دیا کریں کہ آپ کا نام حذف کیا تو کیا ہوا ؟
آپ ثواب کے لیئے لکھ رہے ہیں تو ثواب مل جائے گا نام لکھنا کیوں ضروری ہے ؟
تو ان کج فہموں کو عرض کر دوں کہ اگر کسی تحریر میں غلطی ہو جائے تو وہ ہماری طرف منسوب کر دی جاتی ہے تو تحریر کی اچھائی منسوب کرنے سے موت کیوں پڑتی ہے ؟
صدیوں سے علماءِ اسلام کتابوں کے شروع میں اپنا نام لکھتے لکھواتے آئے ہیں اور جو ان کی بات بغیر ان کے نام کے ذکر کرے اس پر ناراض ہوتے آئے ہیں تو آپ بے شرم کیوں بن جاتے ہیں؟
داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے کشف المحجوب کے شروع میں بیان فرمایا کہ میں نے ایک کتاب لکھی ایک بندہ پڑھنے کے لیئے لے گیا پھر اپنا نام لکھ کر مصنف بن بیٹھا اسی وجہ سے کشف المحجوب میں اپنا نام لکھنا ضروری سمجھتا ہوں
داتا صاحب کو اخلاص کا نہیں معلوم تھا جو تم ہمیں درس دینے آجاتے ہو ؟
امام قرطبی نے تفسیر میں فرمایا
علم کی برکات میں سے یہ ہے کہ قول کی نسبت قائل کی طرف کی جائے

چھوٹی سے چھوٹی بات قائل کی طرف منسوب کی جائے اسی طریق سے برکت ملے گی ورنہ علمِ غیرِ نافع ہوگا جو روح کو سیاہ کر دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top