طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 55
میں ایک تلخ حقیقت عرض کروں
اگر آپ دردِ دل رکھنے والے سنی ہیں اور سوچتے ہیں کہ جتنا خرچہ اعراس و محافل پہ ہوتا ہے وہ مدارس پر لگایا جائے تو آپ کو اکابر اولیاء کرام حتی کہ صحابہ کرام کے ایام منانا بند کرنا ہوں گے
اللہ رب العزت اولیاء کرام و صحابہ عظام کی گستاخی سے پہلے ایمان پر موت دے دے یہاں گستاخی نہیں دردِ دین کی بات ہے
سوائے جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد منانے کے کوئی بھی عرس و دن نہ منائیں
خواجہ صاحب کا عرس و چھٹی جناب غوث پاک بڑی گیارہویں اپنے پیران عظام کے ایام پر کروڑوں خرچ کرنے سے بہتر ہے مدارس و علماء پر صرف کیئے جائیں
آپ اسلام کے اس سنہرے دور کو دیکھیں جس میں لاکھوں کتب لکھی گئیں پھر اس دور میں غوطہ زن ہو کر آئیں آپ کو کوئی عرس و محفل نظر نہیں آئے گی
آپ صاحبِ ثروت ہیں تو کم از کم ایک قابل عالم دین کی کفالت کریں
جی ہاں عالمِ دین کو ان کے گھر لائبریری میں بند کر دیں کہ یہاں بیٹھ کر لکھیں آپ کے گھر کے تمام اخراجات میں پورے کروں گا
نور کی برسات”نوری محفل” نورانی رات”وغیرہ عنوانات سے محافل قائم کرنے والے سیٹھ اگر علماء پر وہ پیسہ لگائیں تو ان کا اپنا فائدہ بھی ہو اور امت کا مستقل فائدہ ہوگا
علماء کتب لکھ بھی لیں تو چھپوائے کون؟
یہی سیٹھ جو اتنی بڑی محافل کرواتے ہیں
میں ایک دن اپنے دوست کو کہ رہا تھا اگر مجھے فکرِ معاش کی پریشانی نہ ہو اور فارغ البالی ہو تو امت کو ایسا کام دے جاؤں کہ دعاؤں میں یاد رکھے
خصوصاً اسلامی سائنس کے وہ کارنامے لکھ کر دوں کہ لبرلز کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے کہ ہر ہر کام تو مسلمان سائنس دان کر گئے ہیں
مصیبت یہی ہے کہ علماء کرام قدیم طرز پر کتب پڑھتے ہیں مگر سائنسی نکتہ نگاہ سے اسلاف پر کام نہیں کیا گیا
تقریبا پرانے مسلمان سائنس دان علماء بھی تھے
ہمارے ایک استاذ صاحب درجہ میں فرمانے لگے میرا بس چلے تو میں اشرف سیالوی صاحب کو ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے تالا لگا دوں کہ ایتھے بہ کے لکھو بس یعنی یہاں بیٹھ کر تصانیف کریں
کاش اپنے پیروں اکابر اولیاء و صحابہ کرام کے اعراس کی جگہ علماء کو کمروں میں بند کیا جائے تو ایک نئی لہر تصنیف و تالیف کی پیدا ہو سکتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
