غرض سے شادی کرنے والے عالم و عالمہ

قابلِ_تقلیدخواتین 9

صفیہ بنت مرتضی بن مفضل حسنیہ یمن کی بہت بڑی عالمہ زاہدہ تھیں
ان کا انتقال 771 ھجری میں ہوا باوجودیکہ خود بڑی عالمہ فاضلہ تھیں
°°° انہوں نے صرف علمِ کلام (علم العقائد) سیکھنے کے لیئے محمد بن یحیی القاسمی سے شادی کی تھی کیونکہ یہ علمِ کلام کے ماہر تھے °°°
اور مزے کی بات کہ محمد بن یحیی نے صفیہ بنت مرتضی سے شادی اس لیئے کی کہ ان سے عربیت سیکھیں
کیونکہ یہ فصاحت و بلاغت میں ماہرہ تھیں
یعنی دولہا و دولہن دونوں نے علمِ دین کے شیدائی تھے اسی نیت سے اپنی مرضی کے فرد سے نکاح کیا

کیسی پیاری غرض سے دونوں نے نکاح کیا
کاش آج بھی ایسی دینی و اخروی اغراض سے شادیاں کی جاتی تو ماحول و معاشرے کا رنگ ہی الگ ہوتا

صفیہ بنت مرتضی کمال درجے کی عالمہ تھیں کہ انہوں نے ابراھیم بن علی جو کہ اپنے وقت کے مشہور عالم تھے ان کے رد میں ایک کتاب الجواب الوجیز علی صاحب التجویز لکھی تھی سوال ہے کہ فی زمانہ ایسی ذکیہ فقیہہ عالمہ کیوں نہیں پیدا ہوتی؟
اس کا جواب یہ کہ ایک وجہ والدین کا بچیوں پر محنت کرنے کا وہ جذبہ نہیں وہ سختی نہیں جو دنیاوی تعلیم میں کی جاتی ہے
دوسری وجہ یہ علمِ دین ہے اور یہ بغیر روحانیت کے نہیں آتا یہاں ذہانت و فطانت ایک فیصد اور ادب و روحانیت نناوے فیصد اثر انگیز ہوتے ہیں
جب تک طلباء و طالبات میں اسلاف جیسی روحانیت و ادب نہیں ہوگا اسلاف جیسے علماء و عالمات پیدا نہیں ہو سکیں گے
“با ادب کم ذہانت سے وہ حاصل کر لیتا ہے جو کم ادب سے ذہانت کا پہاڑ بھی حاصل نہیں کر سکتا”
تیسری وجہ
لڑکیوں کو پڑھانے کے لیئے ماہر خواتین موجود نہیں ہیں
اگر طالبہ کسی مرد سے پڑھے تو فتنہ میں اکثر پڑتے دیکھا ہے کہ تعلیم مکمل ہونے سے پہلے شادی کے چکروں میں پڑ جاتی ہیں
اس کا حل صرف اپنے محارم سے بالمشافہ پڑھیں یا محارم کی موجودگی میں علماء سے پڑھیں و بس
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top