عشقِ_سیدِ_عالم 53
امام یوسف نبھانی بیروت کے عالم محدث لغوی متکلم فقیہ اور بہت بڑے عاشق رسول تھے
یہ عشقِ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشہور ہیں
1910 میں خلافتِ عثمانیہ کے دور میں بیروت کے قاضی تھے
ایک مقدمہ آیا کہ ایک شخص نے کسی عیسائی کو ہلاک کر دیا ہے
امام نبھانی اس مقدمے کے قاضی تھے
“””تاریخ کا عجیب منظر تھا ایک عظیم عاشق رسول کی عدالت میں عشق کا فیصلہ آگیا تھا”””
امام نبھانی نے عیسائی کو ہلاک کرنے والے سے پوچھا
تم اس کو جانتے تھے؟
اس نے کہا نہیں
پوچھا تم پھر اس کو ہلاک کیوں کیا؟
کہنے لگا
میں نے اس کو جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کرتے دیکھا تو مجھے ہوش نہ رہا
میں نے اسکو لوہار کی دوکان سے چھری لیکر ہلاک کر دیا
قاضی امام نبھانی نے فرمایا کیونکہ تم نے ایک انسان کے از قتل کا اقرار کیا ہے لہذا اسکی سزا میں پندرہ سال قید کا حکم سنایا جاتا ہے
اور کیونکہ تم نے حمیتِ رسول اور غیرتِ اسلامی کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے تمہاری یہ سزا معاف کی جاتی ہے
کمرہِ عدالت مقتول کے ورثاء سے بھرا ہوا تھا
کچھ لبرلز اور دل کے مریض بھی موجود تھے انہوں نے شور مچا دیا کہ یہ فیصلہ نامنظور ہے
قاضی امام نبھانی نے سب کو خاموش کروایا
اور اس شخص سے پوچھا کہ تم نے کس ہاتھ سے اس عیسائی کو ہلاک کیا؟
اس نے دایاں ہاتھ بلند کر کے کہا اس ہاتھ سے
قاضی صاحب کرسی سے اترے اور اس شخص کا وہ ہاتھ چوم کر عوام کو اپنے فیصلے کی پختگی کا عملی مظاہرہ دکھا دیا
یہ بات بیروت کی وزارت انصاف کو بتائی گئی تو انہوں نے اس قاضی کو بیروت کی عدالت سے معزول کر کے مدینہ منورہ کی عدالت کا قاضی بنا دیا
ہمارے ایک استاذ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس نے اپنے اندر عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع جلانی ہو یا لو تیز کرنی ہو تو وہ امام نبھانی کی کتب پڑھا کرے
امام نبھانی کے بارے آتا ہے وہ کبھی مسجد نبوی میں داخل نہ ہوئے
سبب پوچھنے پر کہتے کہ کتا گھر دیوڑی تک آتا ہے اندر نہیں جاتا
امام نبھانی نے اعلی حضرت امام احمد رضا خان کی ایک کتاب پر تقریظ بھی لکھی ہے کیونکہ ان بزرگوں کا دور ایک ہی تھا مگر کبھی ملاقات نہیں ہوئی
اللہ رب العزت ہمیں ان عشاق علماء کے ساتھ رکھے ان کے ساتھ حشر کرے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
