عشقِ_سیدِ_عالم 54
ہم حد سے بڑھ گئے ہیں
محافظِ مدینہ فخر الدین پاشا
مدینہ منورہ کی حفاظت کے دوران شہید ہونے والے شہداء کی قبروں پر حاضری دے رہے ہیں
ان کا لقب نمر الصحراء یعنی صحراءِ عرب کا چیتا انگریز ان کو نمر الترکی کہتے ہیں
فخر الدین پاشا سلطنت عثمانیہ کی طرف سے مدینہ پاک کے آخری حاکم تھے جن کا دور 1916 سے لیکر 1919 تک تھا
جن پر عرب متعصب قبیلوں نے آلِ نجد اور برطانیہ کی مدد سے حملہ کیا
••• 72 دن انہوں نے مدینہ پاک کا دفاع کیا اور پھر شہرِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ادب کی خاطر کہ کہیں اس پاک شہر میں خون خرابہ نہ ہو •••
اتحادی قوتوں کے حوالے کر دیا
انگریزوں نے انکو قیدی بنا لیا اور مصر بھیج دیا وہاں سے مالٹا بھیج دیا
یوں ترکیوں کی عرب شریف پر چار سو سالہ حکومت کا اختتام ہوا
فخرالدین پاشا نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تیس کے قریب متبرک اشیاء حملہ ہونے سے پہلے دو ہزار ترکی فوجیوں کی حفاظت میں ترکی بھیج دی تھیں کہیں حالت جنگ میں نقصان نہ ہو
تاریخ ان کو بہت سی وجوہات سے یاد رکھتی ہے جن میں
دو بڑی وجہیں ہیں
پہلی وجہ
انہوں نے مدینہ پاک کی عزت و حرمت کی خاطر جنگ نہیں کی
شہرِ پاک حوالے کرنے سے پہلے تمام ترکی فوجی روضہ پاک پر غمزدہ دل اور اشکبار آنکھوں سے حاضر ہوئے
اور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے تڑپتے دلوں سے رخصت طلب کی اور قیدی بن گئے
جن ترکوں نے مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران پتھر بھی شہر پاک سے باہر جا کر توڑا تھا وہ وہاں خونریزی کیسے کر سکتے تھے؟
دوسری وجہ
فخر الدین پاشا نے آلِ نجد کی حرکات کو مد نظر رکھتے ہوئے متبرک اشیاء ترکی بھیج دی تھیں
یہی وجہ ہے دنیائے اسلام میں سب سے زیادہ متبرک اشیاء ترکی میں ہیں
اللہ رب العزت ان سب پر رحمتیں نازل فرمائے
کیسے خوش نصیب شہید تھے جنہوں نے مدینہ منورہ کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا
کہ ہم یہ شہر کسی صورت فرنگیوں کے حوالے نہیں کریں گے
نوے دن تک محاصرے میں بھوکے پیاسے زخمی بیمار رہے
پھر آخر کار آلِ نجد ,عرب قبائل, اور فرنگیوں نے حدودِ حرمِ مدینہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تو فخر الدین پاشا نے ہتھیار ڈال دیئے کہ لڑائی سے شہرِ رسولِ پاک کا تقدس پامال نہ ہو جائے
یوں عثمانیوں کی لا زوال محبت نے مدینہ پاک میں خون خرابے سے بچا لیا
اس نوے دن کے محاصرے میں شہید ہونے والے افراد کی قبر پر ان کے سپہ سالار فخر الدین پاشا موجود ہیں
ان کے دل پر جو گزری وہ جانتے ہوں گے یا ان کا رب جانتا ھے کیونکہ
طیبہ سے لوٹنا کسی عاشق سے پوچھیئے
ایسے لگے کہ روح بدن سے گزر گئی
عثمانیوں کا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تاریخ میں روشن الفاظ میں لکھا جاتا ھے
جب کسی عثمانی ترکی کی عمر 63 سال سے زیادہ ہو جاتی
اور کوئی اس سے عمر پوچھتا
تو وہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے ادب کی وجہ سے کہتا تھا کہ
ہم حد سے بڑھ چکے ہیں
یعنی کسی عاشق کو زیب نہیں دیتا کہ وہ تریسٹھ سال سے زیادہ جیئے
روح البیان میں کہ اھل عرب نے عمر کے چار حصے بنائے ہیں
پہلا نشو نماء کا حصہ یہ طفولیت ھے
دوسرا سن الوقوف یہ شباب ھے بتیس سال تک
تیسرا انحطاط قلیل ہے یہ کہولۃ ھے مگر یہ غیر انبیاء کے حق میں ہے یہ بتیس سے چھیالیس سال تک ھے
انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں اشد ھے عمر کے اس حصے میں تحملِ وحی کی قوت بدرجہ اکمل ظاہر ہوتی ہے
چوتھا عمر کا حصہ انحطاط کثیر ہے اور یہی شیخوخۃ ھے
اور آخر میں ھرم یہی ارذل ھے اس سے زیادہ عمر کا برا حصہ کوئی نہیں ہے
کیونکہ اس وقت انسان عقل کی کمی اور بدن کی کمزوری میں بچے کی طرح ہوجاتا ھے
مولا علی سے منقول کہ ارذل عمر 75 سال ھے یعنی اس کے بعد ارذل عمر شروع ہو جاتی ہے
بخاری شریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارذل عمر سے پناہ مانگتے تھے
مومن کا ہر حصہِ عمر اس کی آخرت کے لیئے مفید ہے
مسند احمد کی حدیث پاک میں ہے
جو مسلمان چالیس سال کی عمر تک پہنچ جائے اللہ رب العزت اس کو جنون,برص,جذام وغیرہ سے نجات دے گا
اور جو پچاس برس کی عمر کو پہنچ جائے اللہ رب العزت اس پر حساب نرم کر دے گا
اور جو ساٹھ برس تک پہنچ جائے اللہ رب العزت اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دے گا
اور جو ستر برس تک پہنچ جائے اللہ رب العزت اس سے محبت فرماتا ھے اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں
اور جب بندہ اسی برس تک پہنچ جائے اللہ رب العزت اس کی نیکیاں قبول فرماتا ھے اور گناہ مٹا دے گا
اور جب نوے سال کا ہو جاتا ھے تو اللہ رب العزت اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا
عثمانیوں کی ایک اور بے مثال عادت ہے کہ جب بھی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گرامی سنتے ہیں تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر گردن کو جھکاتے ہیں
کسی اھلِ دل نے اسکی بڑی خوب توجیہ بیان کی کہ ان کے دل حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پاک کو سن کر مچل جاتے
تو بندہ مومن دل پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتا کہ اے دل صبر کر اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے جلد ہی ملاقات ہوگی
اھل اسلام میں مصری,ترکی اور بر صغیر کے مسلمانوں کی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت مشہور ھے
اللہ رب العزت ہمیں جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں زندہ رکھے اسی محبت پر موت دے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

