کونسی شادی قیامت تک حسرت و ندامت ہوتی ہے

اسلامی_طرزِتربیت 206

محبت کی علامت کیا ہے؟

آئیے اور امت کے بہت بڑے عالم سے پوچھتے ہیں
حافظ ابن الجوزی فرماتے ہیں
بندہ کسی خاتون کی محبت میں مبتلاء ہو جائے تو اس سے نکاح کرنے کی بھر پور کوشش کرے
اگر اس سے نکاح نہ ہو سکے تو اس سے نکاح کرے جو مرد کو محبوب عورت کی جگہ تسلی دے اور یہ وہ ہوگی جو پہلی نگاہ سے دل میں اتر جائے
اس کی علامت یہ ہے کہ اس پر دل جم جائے اور نظر ٹھہر جائے اور اس سے نظر ہٹ نہ پائے
یہی محبت کی نشانی ہے

ذم الھوی لابن الجوزی صفحہ 224 ❗

امام علاؤ الدین المرداوی نے ابن الجوزی کا قول یوں نقل کیا
محبوب عورت نہ ملے تو اس کی مثل عورت سے شادی کرے

الانصاف فی معرفة الراجح من الخلاف
جلد 8 صفحہ 18 ❗

یعنی *جو قد کاٹھ رنگ و روپ علم و فضل میں محوب عورت کی مثل ہو اس سے شادی کرے
گوکہ مُحِب کو محبوب کی مثل کوئی نظر ہی نہیں آتا مگر حقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو محبوب جیسے بلکہ اس سے بہتر بے شمار افراد مل جاتے ہیں

امام ابن الجوزی اور امام المرداوی نے انسانی فطرت کے مطابق کلام فرمایا یعنی محبت سے انکار نہیں کیا
بلکہ اسے تسلیم کیا اور محبت کرنے والے کو بہترین مشورہ دیا

لہذا والدین کو بھی اس انسانی فطرت سے منہ موڑ کر بچوں کی خوشیوں کے قاتل نہیں بننا چاہئے

توراۃ شریف میں لکھا ہے
ہر وہ شادی جو محبت کے بغیر ہو قیامت تک حسرت و ندامت ہوتی ہے

ذم الھوی لابن الجوزی صفحہ 224 ❗

جن بچوں کے لیئے آپ نے تن من دھن سب قربان کر دیا ان کی اس مرضی پر کیوں مخالف ہوگئے ہیں جس میں ان کا اختیار ہی نہیں ہوتا

محبت بلا اختیار ہوتی ہے

اگر بچی یا بچے کی پسند شریعت کے خلاف نہ ہو تو بچوں کو کیوں حسرت و ندامت میں رہنے پر مجبور کر رہے ہیں؟

شادی کریں جو قیامت تک شادی (خوشی) ہو حسرت و ندامت نہ ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top