ہر ایک کو اس کی اہمیت دیں

اسلامی_طرزِتربیت 205

°°° چاہت کی چائے °°°

ہر محبت میں توازن لازمی ہے
ایک پیارے کی وجہ سے دوسرے پیارے سے الجھنا غیر دانشمندی ہے
ماں کی وجہ سے باپ سے جھگڑنا جرم اور باپ کی وجہ سے ماں الجھنا حرام ہے

استاذ کی وجہ سے پیر کی بے ادبی روحانیت کے لیئے زہر قاتل اور پیر کی وجہ سے استاذ کی توہین نامناسب ہے
اگر دو پیارے آپس میں الجھیں تو غیر جانب داری لازمی ہے ورنہ جینا دشوار ہو جائے گا
کیونکہ ہر انسان کے اپنے نظریات ہیں
آپ ہر ایک کو راضی نہیں کر پائیں گے

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

انزلوا الناس منازلھم
لوگوں کو ان کے مرتبے میں رکھو
{ ابو داؤد شریف }

یعنی جو جس کا حقدار ہے اس کو وہی دیں نہ کم نہ زیادہ
مگر ایک کو دوسرے پہ غالب نہ آنے دیں
ایک شخص سیدہ عائشہ طیبہ طاہرہ عفیفہ زاہدہ صدیقہ کے پاس آیا اور کھانا طلب کیا انہوں نے دروازے پر ہی روٹی پکڑا دی
دوسرا آدمی آیا کھانا طلب کیا تو انہوں نے اندر بلا کر بٹھا کر اچھے انداز سے دستر پر کھانا پیش کیا

کسی نے پوچھا ام المؤمنین یہ فرق کیوں؟
فرمایا
پہلا سائل تھا اس کو دروازے پر کھانا دے دیا اور دوسرا خاندانی شخص تھا تو اس کو اندر بلا کر اس کی شان کے مطابق کھانا پیش کیا

چائے میں چینی تیز ہو جائے تو چائے بے مزہ ہو جاتی ہے پتی زیادہ ہو تو نیند اڑ جاتی ہے دودھ کی مقدار زیادہ ہو تو چائے کی حقیقت ہی مٹ جاتی ہے
ہر ایک چیز مخصوص مقدار میں ہو ایک کی دوسرے پر فوقیت نہ ہو تو بہترین چائے تیار ہوتی ہے
ایسے ہی عملی زندگی میں بھی رشتوں کو حد سے بڑھائیں گے تو زندگی پھیکی و بے مزہ ہو جائے گی
ہماری پنجابی میں ایک مقولہ ہے
جس چاہ وچ چاہ نہ ہوئے اس چاہ نو چاہ وچ سٹو

یعنی جس چائے میں چاہت نہ ہو اس چائے کو چاہ یعنی کنویں میں پھینک دو
چائے میں رنگت و ذائقہ ہر شے کو اسکی حد میں رکھنے سے آتا ہے ویسے ہی زندگی میں رنگ و نور ہر رشتے کو اس کی حد میں رکھنے سے اور دوسرے رشتے سے مقابلہ نہ کروانے سے آتا ہے
یہ کبھی نہ کہا جائے کہ فلاں مجھ سے ایسا ہے تم ویسے نہیں ہو
فلاں کو مجھ سے اتنی محبت ہے تمہیں نہیں ہے
فلاں سے میں زیادہ محبت کرتا ہوں تم سے ویسی محبت نہیں ہے
جس سے جیسی جتنی الفت و چاہت ہے کسی سے مقابلہ نہ کریں ورنہ زندگی عجوبہ بن جائے گی
ہر رشتہ آپکی زندگی کی عمارت کی ایک اینٹ ہے ہر ایک کی اپنی مستقل حیثیت و اہمیت ہے
ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے کا اظہار کر کے عمارت کمزور نہ کریں
جو رشتے لیکر آپ پیدا ہوئے پہلے ان کو بھر پور بنائیں
نئے رشتے تب بنائیں جب پیدائشی رشتے آپ سے راضی ہوں
مجھے نِت نئے چاہتوں محبتوں کے پیغام ملتے ہیں مگر پہلے امتحان سے ناکام ہو جاتے ہیں
بہت سے طلباء آنلائن قدم بوسی کرتے ہیں
بہت سے علماء اکتسابِ فیض کے خواہاں ہوتے ہیں

سب کی محبتیں قبول ہیں مگر سب کی توقعات پر اترنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ کشتی پر زیادہ بوجھ ہو تو ڈوب جاتی ہے
لہذا آپ بھی خود پر زیادہ بوجھ نہ لاد پیا کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top