احساسِ کمتری

عشاقِ_تاریخِ_اسلام 76

یہ عظیم الشان پل اردن کے دار الحکومت عمان میں آج بھی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے
یہ 1902 میں سلطان عبد الحمید ثانی نے بنوایا تھا
اس کی تعمیر میں عربوں اور ترکوں نے مل کر کام کیا تھا
میں اسے دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ ہمارے ملک میں احساسِ کمتری کے مارے لوگ انگریزی دور کے پل اور عمارتیں دیکھ کر خود کو کوستے ہیں کہ مسلمانوں کا بنایا پل ہوتا تو دنوں میں گر جاتا جبکہ عربی ممالک میں ترکوں کے پل آج تک کھڑے ہیں
اسی اندلس میں پل آج تک کھڑے ہیں
اسی طرح مغلیہ دور کے شاہکار بھی آج تک کھڑے ہیں
ماوراء النھر چلے جائیں سلجوقوں کے پل کھڑے ہیں

فرنگیوں نے سب سے بڑا وار ذہنیت پر کیا ہے
نوجوان کو بار آور کروایا کہ تم بس غلام ہو
تم سائنس و جدید علوم سے کورے ہو جبکہ اصل میں جدید سائنسی علوم مسلمانوں کی دَین ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top