شانِ مصطفیٰ ﷺ کی ایک جھلک اور انسانی عقول کی شکست

عشقِ_سیدِ_عالم 27

سات آسمان کے نام اور وہ کس چیز سے بنے ہیں

زیر نظر تصویر میں دائروں کی صورت افلاکِ تسعہ (نو آسمانوں جو کہ فلاسفہ کے نذدیک ہیں) کی عکاسی کی کوشش کی گئی ہے
غور سے دیکھیں سب سے چھوٹے دائرہ زمین ہے
اور سب سے بڑا دائرہ فلک الافلاک ہے؎

فلک الافلاک یہ فلاسفہ کی اصطلاح ہے
مسلمان اس کو عرشِ اعظم کہتے ہیں

فلک ثوابت کرسی کو کہا جاتا ہے
سات آسمان ہیں

امام سیوطی نے در منثور میں لکھا ہے

پہلے آسمان کا نام رقیعاء ہے اور یہ سبز رنگ کے زمرد کا بنا ہوا ہے

دوسرے آسمان کا نام ازفلون ہے اور یہ سفید چاندی کا ہے

تیسرے آسمان کا نام قیدوم ہے اور یہ سرخ یاقوت کا ہے

چوتھے آسمان کا نام ماعونا ہے اور یہ سفید موتی کا بنا ہوا ہے

پانچویں آسمان کا نام ریقا ہے اور یہ سرخ سونے کا بنا ہے

چھٹے آسمان کا نام دقناء ہے اور یہ زرد یاقوت کا ہے

ساتویں آسمان کا نام عریبا ہے اور یہ نور سے بنا ہوا ہے

ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا فاصلہ صدیوں کا ہے

یہ جو ہمیں اوپر نظر آتا ہے یہ پہلا آسمان ہے اور حجم کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اسمان ہے لیکن یہ بھی زمین سے کروروں گنا بڑا ہے دوسرے تیسرے آسمان کا کیا حال ہوگا اور پھر عرش اعظم کا کیا حال ہوگا؟

آیۃ الکرسی میں ارشاد ہے
وسع کرسیہ السموات والارض
اللہ کی کرسی زمین اور آسمانوں کو گھیرے ہوئے ہے

یعنی کرسی ساتوں زمینوں ساتوں آسمانوں سے بڑی اور عظیم تر ہے

کتاب العرش میں حدیث پاک ہے
ما السماوات السبع في الكرسي إلا كحلقة ملقاة بأرض فلاة وفضل العرش على الكرسي كفضل تلك الفلاة على تلك الحلقة
ساتوں آسمان کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے ایک انگوٹھی کا چھلا صحراء کے سامنے پڑا ہو
اور عرش کے سامنے کرسی ایسے ہے جیسے ایک انگوٹھی کا چھلا صحراء کے سامنے

یعنی کرسی عرش اعظم کے آگے اتنی چھوٹی ہے جتنا ایک چھلا تاحد نگاہ صحراء میں پڑا ہو

الله اکبر

اب اصل بات کی طرف آتے ہیں

زمین کی ان میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟؟؟

فلاسفہ کہتے ہیں
افلاکِ تسعہ کا محور و مرکز زمین ہے

گو کہ زمین کی حیثیت عرشِ اعظم کے سامنے بلحاظِ رقبہ ذرہ کے کرورواں حصہ بھی نہیں

لیکن پھر بھی زمین محور و مرکز ہے

ہر آسمان گول گھومتا ہے
لیکن گھومنے میں فرق ہے

کوئی مشرق سے مغرب کی جانب کوئی مغرب سے مشرق کی جانب گھومتا ہے
لیکن بہر حال زمین کے گرد گھومتے ہیں

زمین کی افلاک تسعہ میں اہمیت تو واضح ہوگئی کہ نو آسمان زمین کے گرد گھومتے ہیں

اب سوال یہ رہ گیا زمین ہی کے گرد کیوں گھومتے ہیں؟؟؟

سات براعظموں میں کعبۃ اللہ مشرفہ عین زمین کے وسط(درمیان) میں ہے
جدھر منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ زمین کا بالکل درمیان ہے
اس حوالے سے کعبہ زمین کا وسط ہوا

اس کی بھی ایک اصل حقیقت اور ہے

بعض احادیث میں آیا
حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کی پاک مٹی کعبہ کے درمان سے لی گئی
پھر اس کو جنت کے پانیوں سے گوندھ کر جہاں حضور ﷺ نے قبر مبارک میں آرام فرمانا تھا وہاں رکھ دیا گیا

اب پچھلی سبھی باتوں کو ذہن میں لائیں
نو آسمان زمین کے گرد گھومتے ہیں
نو آسمانوں کا مرکز و محور زمین ہے

اور زمین کا مرکز و محور وہ جگہ ہے جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی اصل ہے

یا یوں کہوں
زمین مرکزِ کائنات ہے
نو آسمانوں حتی کا عرشِ اعظم کا بھی مرکز زمین ہی ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے درمیان محمد مصطفٰی ﷺ کی نورانی مٹی ہے

نو آسمان اربوں ملائکہ و انسان وسطِ زمین (کعبۃ اللہ) کا چکر اس لیئے لگاتے ہیں کہ
یہاں سے مقصدِ کائنات فخرِ موجودات سیدالسادات اصلِ کائنات ﷺ کی نوارنی مٹی لی گئی تھی

نو آسمان فلک الافلاک اور جنت کے بارے امام اھل سنت کیا خوب فرماتے ہیں

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دھل گیا نامِ ریگِ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

تصوف کی امہات کتب میں سے ایک کتاب التعرف لمذھب اھل التصوف میں امام کلاباذی
سیدی ابو یذید بسطامی کو قول نقل کرتے ہیں

لو بدا للخلق من النبی ذرۃ لم یقم لہا مادون العرش
اگر سرکار ﷺ کا ایک ذرہ بھی مخلوق کے لیئے ظاہر ہوجائے تو عرش کے نیچے جو کچھ اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے

اس کی شرح میں ابوالحسن قونوی نے لکھا لکھا
یعنی اس ذرہ پاک کو سننے دیکھنے اس کو اٹھانے کی طاقت کسی میں بھی نہ ہو
یعنی حقیقت و نورانیتِ مصطفیٰ اتنی قوی ہے کہ کوئی سہ نہ پائے

امام فرماتے ہیں

ان کے قصر قدر کے خلد ایک کرہ نور کا
سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا

سدرہ وہ درخت ہے جس کی شاخیں ہر جنتی کے گھر میں پھیلی ہیں اور جنت کتنی بڑی ہے یہ اللہ ہی جانتا ھے

یہ سب ھمارے آقا ﷺ کے سامنے ننھے پودے اور ذرے ہیں
اسی لیئے امام فرماتے

ملکِ خاصِ کبریا ہو
مالکِ ہر ما سوا ہو
کوئی کیا جانے کہ کیا ہو
عقل ِعالَم سے وَراء ہو

سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top