سفر کے فائدے

اسلامی_طرزِ_تربیت 243

سفر زندگی کا ہو یا راستے کا جسم تھکا دیتا ہے
بعض دل کے سفر بھی تھکا دیتے ہیں کہ آپ کسی شخصیت کے دل تک رسائی کے لیئے تگ و دو اور ہزار جد و جہد کرتے ہیں مگر ناکام و بے مرام رہتے ہیں
جسم و مکاں کی طرف سفر جسم سے اور مسافت طے کر کے کیا جاتا ہے جبکہ دل کا دل تک سفر دل سے کیا جاتا ہے
عرفِ عام میں اپنا وطن چھوڑ کے دیارِ غیر جانا سفر کہلاتا ہے
جبکہ لغت میں سفر کا معنیٰ واضح کرنا ہے
کیونکہ سفر انسان کی اپنی حیثیت و اصلیت ظاہر کرتا اس وجہ سے اسے سفر کہتے ہیں
یا اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سفر لوگوں کے اخلاق و عادات کو ظاہر کرتا ہے
ایک شخص نے کسی بزرگ کو کہا فلاں بہت اچھا آدمی ہے
فرمایا
کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟
عرض کیا نہیں
فرمایا پھر تم اسے نہیں جانتے
سفر میں انسان اکتا جاتا ہے تھک جاتا ہے اور جب آدمی اس کیفیت میں ہو تب وہ اپنی اصلیت ظاہر کرتا ہے
سفر میں رواداری , لحاظ , نرمی , استاذ ساتھ ہوں تو ادب و احترام , چھوٹے ساتھ ہوں تو شفقت خواتین کی عزت , کمزوروں پر رحم , مجبور کی مدد کرنے والا ہی کامل انسان ہے
سفر سے عقل کے دریچے کھلتے ہیں
سیدی عبد الله بن مسعود کا فرمان ہے
العلم بالسفر
علم سفر سے آتا ہے
یعنی دور دراز کے علاقوں کا سفر اور مختلف علماء سے ملاقاتیں اور اولیاء کرام سے کسبِ فیض علم میں اضافہ کرتا ہے
ایک روایت میں ہے
سافروا تصحوا
سفر کرو صحت مند ہو جاؤ گے
کیونکہ سفر سے آب و ہوا بدل جاتی ہے تو جسم خوشگوار تبدیلی محسوس کرتا ہے
الغرض سفر اخلاقی و جسمانی و روحانی و علمی تبدیلی کا سبب ہوتا ہے
دل کا سفر بھی تبدیلی لاتا ہے اور جسم کا سفر بھی تبدیلی لاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top