پھندوں کے بیچ مت پھنسیں

اسلامی_طرزِ_تربیت 242

امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک باب باندھا ہے کہ زیادہ دوست بہتر ہیں یا کم دوست بہتر ہیں
علماءِ کرام کے دو گروہ شمار کیئے
ایک طبقہ کم سے کم جان پہچان پسند کرتا ہے تو دوسرا زیادہ جان پہچان پسند کرتا ہے
سیدی فضیل بن عیاض رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں
من سخافة عقل المرء كثرة معارفه
آدمی کی عقل کمی کمزوری میں سے ہے کہ اس کی جان پہچان والے زیادہ ہوں
حفص بن حمید فرماتے ہیں
من لم ينقص كل يوم صديقا لا يفلح
جس کے روز دوست کم نہ ہوں وہ فلاح نہیں پا سکتا
حکماء کہتے ہیں
لتكن الإخوان عندك كالنار قليلها متاع وكثيرها بوار
تمہارے نزدیک دوست آگ کی طرح ہونے چاہیئے کہ اس کی کمی استعمال کے قابل اور زیادتی تباہی کے
❗ محاضرات الأدباء ومحاورات الشعراء والبلغاء للاصفھانی ❗

ایک بذرگ فرماتے ہیں
آپ کو جو بھی تکلیف ملتی ہے جاننے والوں سے ملتی ہے

دوستی عنقاء ہے اور کثرت سے جان پہچان ہلاکت کا پھندہ ہے

کوئی پھندہ بیڑی بن جاتا ہے کوئی ہتھکڑی تو کوئی منہ بند کر دیتا ہے تو آنکھوں کی پٹی ہے تو کوئی گلے کا پھندہ بن جاتا ہے
اب کون عقلمند ہے جو آزاد رہنے کی نعمت چھوڑ کے پھندوں میں جا گھسے؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top