تصوف_و_صوفیاء 80
امام ابن عجیبہ فرماتے ہیں
سچے صوفی کی پانچ علامات ہیں
{1} ترک المراء و الجدال
بحث و جدال ترک کرنا
ہاں مگر بغیر بغض و عناد کے دل کی نرمی سے حق بات کی تلاش میں بحث کرنا مذموم نہیں ہے
{2} استفتاء القلوب
یعنی دِلوں سے فتوی لینا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے استفت قلبک اپنے دل سے فتوی طلب کرو
یہاں تصوف کی بحث ہے تو مراد قلبی و روحانی منازل کے بارے دل سے فتوی طلب کرنا مراد ہے
کیونکہ روحانی مراتب نہ کتابوں سے طے ہوتے ہیں نہ علماءِ ظاہر سے حل ہوتے ہیں بلکہ عرشِ الٰہی کا طواف کرنے والے دل سے طے ہوتے ہیں
آپ نفس کی آفات و قلب کے عجائبات حسامی و قدوری و الاشباہ و النظائر سے نہیں سمجھ سکتے نہ محدّثین و متکلمین کی بارگاہ سے جان سکتے ہیں بلکہ یہ اپنے دل سے جان سکتے ہیں
{3} التفویض الی مشيئة الله
ہر کام الله رب العزت کے حوالے کرنا اور اس کے ہر کام پر دل سے راضی رہنا
کسی کام کی طرف اپنی نسبت نہ کرنا ہے
{4} الاشتغال بالذکر و الفکر
ہر وقت ذکر و فکر میں مشغول رہنا کہ محبوب کے سوا کچھ یاد نہ رہے
حقیقتاً ذکر یہی ہے کہ خود کو بھول جائے اور محبوب کو یاد رکھے
{5} التماس الترقی و الزیادۃ فی الاھتداء
ھدایت کی طلب میں مصروف رہنا اور ھدایت کی زیادتی چاہنا
کیونکہ ایک مقام ختم نہیں ہوتا نیا شروع ہو جاتا ہے
*جو خود کو ھدایت یافتہ سمجھ لے وہ گمراہ ہو جاتا ہے
اور روحانی مراتب میں تو کوئی حرفِ آخر نہیں ہوتا کوئی حد نہیں ہوتی
تصوف اسلام کے دو حصوں میں سے ایک حصہ ہے
ایک حصہ اشداء علی الکفار ہے تو دوسرا رحماء بینھم ہے
ایک حصہ علم ہے تو دوسرا عمل ہے
ایک حصہ قیام ہے تو دوسرا سجدہ ہے
جس نے قیل و قال کو تصوف سمجھا وہ بھٹک گیا
جس نے اشاروں کنایوں کو ہی تصوف سمجھا وہ ظالم ہے
تصوف مسلسل حرکت کا نام ہے اسی وجہ سے اکابر صوفیاء کرام نے فرمایا البركة في الحركة برکت تو حرکت میں ہے
كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ ہر روز اس کی شان ہے کے تحت صوفیاء کرام نیا مقام تلاش کرتے ہیں
اور اس وجہ سے گزشتہ دن سے زیادہ سخت عبادت و ریاضت کرتے ہیں
بقول سلطان الفقر کے کہ
اتنا ڈِھٹا مینوں صبر نہ آوے
پھر یہ نفوسِ قدسیہ دنیا سے پردہ فرمانے تک نئے مقام کی جد و جہد میں ہی رہتے ہیں
*اللھم اجعلنا منھم
✍️ #سیدمہتاب_عالم
