دنیاوی پریشانیوں کا ثواب

ذاتی_مطالعہ 169

سیدی عبد الله بن مبارک سے منقول ہے
أَكْثَرُ مَا يَجِدُ الْعَبْدُ فِي حَسَنَاتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْهَمُّ وَالْحُزْنُ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَهُمُومُ الدُّنْيَا وَأَحْزَانُهَا قَالَ: إِي وَاللَّهِ هُمُومُ الدُّنْيَا وَأَحْزَانُهَا
قیامت کے دن آدمی اپنے نامہ اعمال میں جو نیکیاں زیادہ پائے گا وہ رنج و غم کی نیکیاں ہوں گی
عبد الله بن مبارک سے سوال ہوا
کیا دنیا کے رنج و غم مراد ہیں؟
فرمایا
خدا کی قسم دنیا کے رنج و غم مراد ہیں
❗ تاریخِ جرجان ص ٢٢٥ ❗

دنیاوی رنج و الم اور فکر و پریشانی مؤمن کے لیئے فائدہ مند ہیں
یہی پریشانیاں جو آج ناپسند لگتی ہیں کل قیامت میں حسین صورتوں میں سامنے آئیں گی تو بندہ رنج و الم بھول جائے گا
کیونکہ مومن دو میں سے ایک پریشانی جھیلتا ہے دنیا میں پریشانی یا آخرت میں پریشانی تو بہتر ہے دنیاوی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں

کام کاروبار کی پریشانی, رشتے کی پریشانی , گرمی سردی کی تکلیف, بجلی جانے کی پریشانی حتی کہ بلا وجہ دل کی پریشانی یہ سب آپ کی نیکیاں بڑھاتی ہیں
لہذا صبر کریں مطمئن رہیں آپ کو اس کا اجر دیا جائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top