خلیفہ نے جوتے چوم کر حسنِ تدبیر سے کام لیا

اسلامی_طرزِتربیت 136

خلیفہ المہدی عوام میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص رومال میں ایک خاص قِسم کے نعلین لے کر اندر داخل ہوا
اور کہنے لگا
اے امیر المومنین یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین ہیں جو میں آپ کو پیش کر رہا ہوں
المھدی نے کہا ہاں میں نے قبول کیئے
اس شخص نے وہ نعلین خلیفہ کو دیئے
تو مہدی نے ان نعلین کو چوما اور اپنی آنکھوں پر لگایا
اور پھر اس آدمی کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا
جب وہ آدمی دس ہزار لے کر چلا گیا تو مہدی نے اپنے ساتھیوں سے کہا
تم کیا سمجھتے ہو کہ میں نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جوتے نہیں دیکھے پہننا تو دور کی بات ہے
{ کیونکہ وہ نعلین اس وقت ایجاد ہی نہ ہوئے تھے }
اگر ہم اسے جھٹلاتے تو وہ لوگوں سے کہتا
میں امیر المومنین کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین لے کر گیا تھا
مگر انہوں نے مجھے واپس کر دیا
° اسی لیئے ہم نے اس کی زبان خریدی اور اس کا تحفہ قبول کیا °
اور اس کی باتوں پر یقین کیا
اور ہماری رائے میں جو کچھ ہم نے کیا وہ زیادہ کامیاب اور زیادہ بہتر ہے
(تاریخ بغداد)
صاحبِ تدبیر حاکم مذہبی فتنہ پھیلنے سے پہلے ہی اس کی پہچان کر لیتا ہے
اور قبل از وقت اس کا سد باب کر لیتا ہے
جو حاکم فتنوں کی پہچان بذات خود نہ کر سکے بلکہ کوئی کمیٹی تشکیل دے کر حق ادا کرنے کی کوشش کرے وہ حاکم چپراسی بننے کے بھی قابل نہیں ہے

بس یہ فلموں ڈراموں کے اداکاروں کو صدارتی ایوارڈ دینے کی ذاتی کوشش کرتے ہیں
جبکہ ہمارے اَسّی سال کے حکمران سبھی فتنوں کو پرکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top